روسی فوجی کمپنی ویگنر کے بانی ییوگنی پریگوژن کی موت کی خبر کو عالمی ذرائع
میں وسیع جگہ دی گئی ہے۔
امریکی روزنامہ دی وال اسٹریٹ جنرل نے خبر پر "ویگنر کے بانی کا طیارہ گر گیا۔ تمام مسافر ہلاک” کی سرخی لگائی اور پریگوژن کی ماسکو انتظامیہ کے خلاف ناکام بغاوت کی تفصیلات دی ہیں۔
روزنامہ دی واشنگٹن پوسٹ نے روسی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے شائع کردہ خبر میں پریگوژن کے ماضی کے بارے میں تفصیلات دی ہیں۔
دی نیویارک ٹائمز نے کہا ہے کہ طیارے میں ہلاک ہونے والوں میں پریگوژن بھی شامل ہیں۔ اخبار نے خبر میں ماسکو اور ویگنر کے درمیان اختلافات کا سبب بننے والے دور کا بھی ذکر کیا ہے۔
برطانوی روزنامے دی ٹیلی گراف نے خبر پر سرخی لگائی ہے کہ "روس نے طیارے کے حادثے میں پریگوژن کی ہلاکت کا اعلان کر دیا۔ اتحادی روس کے صدر ولادی میر پوتن کی طرف اشارہ کر رہے ہیں”۔ اخبار نے لکھا ہے کہ سکیورٹی ذرائع کو یقین ہے کہ یہ واقعہ ایک قاتلانہ حملہ ہے اور پوتن کے حکم سے کیا گیا ہے”۔
روزنامہ دی سن نے بھی صدر پوتن کو واقعے کا ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا ہے کہ "پوتن کا انتقام شروع ہو گیا”۔
روزنامہ دی گارڈیئن نے کہا ہے کہ امریکہ کے صدر جو بائڈن نے پوتن کی طرف اشارہ کیا ہے۔ یہ واقعہ دیگر روسی طبقہ اشرافیہ کو ایک تنبیہ کی حیثیت رکھتا ہے۔
جرمن روزنامے بلڈ نے "کرائے کے فوجیوں کا لیڈر ہلاک ہو گیا” کی سرخی سے پریگوژن کی زندگی اور واقعے کی تفصیلات شائع کی ہیں۔
فرانس کے روزنامہ لی موند نے جون میں پریگوژن کی بغاوت اور اس بغاوت کے مقابل ماسکو انتظامیہ کی خاموشی کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے۔