ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

یونان میں گزشتہ  5 روز سے  لگی آگ پر قابونہیں پایا جاسکا ہے

یونان میں گزشتہ  5 روز سے  لگی  جاری آگ جس  سے   کئی بستیوں  کو خطرہ لاحق ہے  تیز ہواؤں کے باعث قابو نہیں پایا جا سکا ہے ۔

الیگزینڈروپولی میں آگ 5ویں روز بھی جاری رہی، ملک کے مغربی ونگ میں آگ کے شعلے مزید زور پکڑ گئے ہیں ۔

Egnatia  شاہراہ کو  آج صبح الیگزینڈروپولی میں آگ لگنے کی وجہ سے بند کر دی گئی ہے۔

تھیسالونیکی اور یورپ  جانے کے خواہاں افراد کی گاڑیوں کا رخ   بلغاریہ کی جانب موڑ دیا گیا ہے۔

نیشنل آبزرویٹری اینڈ انوائرنمنٹل انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر نیکوس میہالوپولس نے کہا ہے کہ  آگ کی وجہ سےراکھ   کے  ذرات کی مقدار 20 مائیکرو گرام سے بڑھ کر 100 مائیکرو گرام ہو گئی ہے جو کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے خطرناک قرار دیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ  میریک میں آگ لگنے سے پیدا ہونے والے راکھ  کے  ذرات بحیرہ Ionian کے جزیروں تک پہنچ گئے ہیں ، انہوں نے کہا کہ  دارالحکومت ایتھنز کے مغرب اور Piraeus میں حالات کافی سنگین  ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ  راکھ کے یہ ذرات  صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں ، انہوں نے  عمر رسیدہ  افراد اور سانس  کی بیماریوں میں مبتلا افراد سے   کھلی فضاء میں  جانے سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔

ملک بھر میں 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی تیز ہوائیں آگ بجھانے کی کوششوں کو بھی پیچیدہ بنا  رہی ہیں۔

21 اگست کو لگنے والی آگ میں دو افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

یونان میں آگ لگنے سے دو روز میں جان کی بازی ہارنے والوں کی تعداد 20 ہوگئی ہے ۔

یونانی صدر کیترینا سکیلاروپولو نے ایوروس ریجن میں اپنی جانیں گنوانے والوں  سے متعلق بیان دیتے ہوئے  کہا ہے کہ ہم اس سانحے کی وجہ سے پہنچنے والےمالی ، جانی اور قدرتی  نقصان پر سوگ منا رہے ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں