ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

فرانس نے  گیبون کے ساتھ عسکری تعاون کو التوا میں ڈال دیا

فرانس کے وزیر دفاع سبسٹیئن لیکورنو نے کہا ہے کہ فرانس نے  گیبون کے ساتھ عسکری تعاون کو التوا میں ڈال دیا ہے۔

روزنامہ لے فگارو کے  لئے انٹرویو میں لیکورنو نے گیبون اور نائجر کی صورتحال کا جائزہ لیا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ نائجر اور گیبون کی صورتحال ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ نائجر میں غیر مشروع فوجیوں نے ایک منتخب صدر کو معزول کیا ہے لیکن گیبون کے فوجیوں نے ملک کے انتخابی قانون اور آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔

لیکورنو نے کہا ہے کہ گیبون کے انتخابات کے صائب ہونے سے متعلق شبہات پائے جاتے ہیں لہٰذا  فرانس نے اس ملک کے ساتھ عسکری تعاون کو التوا میں ڈال دیا ہے۔

لیکورنو نے کہا ہے کہ ہم، نائجر میں فوجی مداخلت سے معزول کئے گئے صدر محمد بازوم کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ بازوم منتخب جمہوری صدر ہیں اور ہم نائجر میں آئینی دور کی بحالی کے حق میں ہیں۔

انہوں نے نیامی انتظامیہ کی طرف سے نائجر میں موجود ایک ہزار 500 فرانسیسی فوجیوں کو سوموار تک ملک سے نکلنے کے الٹی میٹم کو مسترد کیا اور کہا ہے کہ "اس ملک میں ہمارے فوجی کیوں موجود ہیں؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ فرانس ٹیکس دہندگان کی رقوم کو علامتی وجوہات یا ماضی کی یادیں تازہ رکھنے کے لئے خرچ نہیں کر رہا۔ ہم نائجر میں ہیں کیونکہ ساحل کے اس حصّے میں کئی سالوں سے سنجیدہ سطح پر دہشت گردانہ کاروائیاں کی جا رہی ہیں”۔

وزیر دفاع لیکورنو نے کہا ہے کہ خواہ کچھ بھی ہو ہم نائجر میں فرانس کے سفیر سلوین اِٹ کی سلامتی کو یقینی بنانے کے ذمہ دار ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں