ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

سوچی سمجھی سازش کے تحت ہمارے سروں پر انگریزی کو مسلط کیا گیا، پروفیسر محمد ابراہیم

اسلام آباد:نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان و ڈائریکٹرجنرل نافع پاکستان پروفیسرمحمدابراہیم خان نے کہا ہے کہ کسی بھی قوم نے اپنی زبان کو چھوڑکر مستعارزبان میں ترقی نہیں کی ہے،تاریخ اس بات کی گواہ ہے، دُنیا کے ترقی یافتہ ممالک پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ اُنھوں نے اپنی ہی زبان میں ترقی کی ہے۔

پروفیسر محمد ابراہیم نے کہاکہ بدقسمتی سے پاکستان کا معاملہ اُلٹ ہے۔قیام پاکستان  کے بعد ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ملک عزیز میں تمام شعبہ ہائے زندگی میں انگریزی کو ہمارے سروں پر زبردستی مسلط کیاگیا اور ایک غیر ملکی زبان کو اتنی اہمیت دی گئی کہ اُردو کو اس کے جائز حق سے محروم کردیاگیاہے۔

انہوں نے کہاکہ  وطن عزیز کو معرض وجود میں آئے 76 سال  کاعرصہ گزر جانے کے بعد بھی ہم انگریزی زبان کے جال سے باہر نہیں نکل سکے،قائد اعظم محمد علی جناح  نے اُردو کو پاکستان کی قومی زبان قراد دینے کا فیصلہ 25 فروری 1948ئکو مسلم لیگ کے تین روزہ اجلاس میں کیا گیا تھا۔

رہنما جماعت اسلامی پاکستان کا کہنا تھا کہ  1956ئاور 1962ئکے دساتیر میں بھی اُردو کو قومی زبان کے طور پر برقرار رکھا گیا اور1973ئکے دستور میں اُردو کو قومی اور دفتری زبان قرار دیتے ہوئے پندرہ سال کی مہلت دی گئی کہ تمام دفتری اور تدریسی موادکو قومی زبان میں منتقل کیا جائے،لیکن بدقسمتی سے اُردو کو اصل مقام دینے میں ہماری حکومتیں ناکام رہںا۔ 2015ئمیں اُس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس جواد ایس خواجہ  نے 8 ستمبرکونفاذ اُردو کا تاریخ ساز فیصلہ سنایا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں