ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

جی 20 اجلاس: شرکا کا یوکرین جنگ پر روس کی مذمت سے گریز

نئی دہلی: بھارت میں جاری جی 20 اجلاس کے افتتاحی روز اتفاق رائے سے اعلامیہ منظور کیا گیا جس میں یوکرین جنگ پر روس کی مذمت کرنے کے بجائے تمام ریاستوں کو طاقت کے استعمال سے گریز کا مشورہ دیا گیا۔

میزبان بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ یہ اعلامیہ متفقہ طور سمٹ کے افتتاحی روز منظور کیا گیا، یہ اتفاق رائے کافی حیران کن ہے کیونکہ گروپ یوکرین کی جنگ پر واضح طور پر تقسیم ہے، مغربی ممالک کے رہنماوں کے اعلامیے میں روس کی سخت مذمت پر زور دیا گیا تھا جبکہ دیگر ممالک نے وسیع تر اقتصادی مسائل پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہم تمام ریاستوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ امن کا تحفظ کرنیوالے بین الاقوامی اصولوں بشمول علاقائی سالمیت اور خودمختاری، بین الاقوامی انسانی قانون، اور کثیرالجہتی نظام کو برقرار رکھیں۔

اس سلسلے میں کہا گیا کہ ہم یوکرین میں ایک جامع، منصفانہ اور پائیدار امن کے حامی تمام متعلقہ اور تعمیری اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ جوہری ہتھیاروں کا استعمال یا استعمال کی دھمکی ناقابل قبول ہے، اعلامیے میں یوکرین اور روس سے اناج، خوراک اور کھاد کے محفوظ بہا وکے لیے بحیرہ اسود معاہدے کی بحالی پر بھی زور دیا گیا ہے جہاں روس نے جولائی میں اس معاہدے سے دستبرداری اختیار کر لی تھی۔

مودی نے نئی دہلی میں امریکی صدر جو بائیڈن اور دنیا بھر کے سربراہان مملکت اور ریاستوں سے کہا کہ تمام ٹیموں کی محنت کی وجہ سے، ہم جی20 لیڈرز سمٹ کے اعلامیہ پر اتفاق رائے حاصل کر سکے، میں اس اعلامیے کو اپنانے کا اعلان کرتا ہوں۔

جنگ کے بارے میں مختلف خیالات اور آرا کے پیش نظر اس سال اب تک بھارت کی زیر صدارت ہونے والے جی20 کے دوران وزارتی اجلاسوں میں ایک بھی معاہدہ نہیں ہو سکا۔

اس اجلاس میں امریکی صدر جو بائیڈن، فرانس کے صدر ایمینوئیل میکرون، سعودی عرب کے ولی محمد بن سلمان، کینیڈا کے جسٹن ٹروڈیو، جرمن چانسلر اولف شولزم، برطانوی وزیر اعظم رشی سونک اور جاپان کے فومیو کشیدا سمیت متعدد بڑے عالمی رہنما موجود تھے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ گروپ نے کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں قرضوں کے خطرات کو موثر، جامع اور منظم انداز میں حل کرنے پر اتفاق کیا، لیکن کوئی نیا ایکشن پلان نہیں بنایا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ ان ممالک نے کثیر الجہتی ترقیاتی بینکوں کو مضبوط اور ان میں اصلاحات کا وعدہ کیا ہے جبکہ اس کے علاوہ کرپٹو کرنسیوں کے لیے سخت ضوابط مرتب کرنے کی تجویز کو بھی قبول کیا۔

گروپ نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ دنیا کو توانائی کی منتقلی کے لیے سالانہ 40کھرب ڈالر کی فنانسنگ کی ضرورت ہے اور کوئلے سے بجلی کی پیداوار مرحلہ وار کم کرنے کی کوششوں کو تیز کرنے پر زور دیا گیا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں