بدین: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین و سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کیئر ٹیکرز پر کوئی اعتراض نہیں لیکن یہ چیئر ٹیکرز نہ بنیں، انتخابات 90 روز میں ہونے چاہئیں، یہ آئینی تقاضا ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھاکہ الیکشن شیڈول کا ابھی اعلان نہیں ہوا، جیالوں نے جگہ جگہ شاندار استقبال کیا، لوکل باڈی الیکشن میں واضح ہو گیا عوام پیپلز پارٹی کے ساتھ ہے۔ یہ بات انہوں نے بدین پہنچنے کے بعدمیڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جب بھی ضرورت پڑی عوام نے قربانی دی اور اب ان کا حق ہےکہ وہ پوچھیں حکومت عوام کے لیےکیا کر رہی ہے؟ کیئر ٹیکرز پر کوئی اعتراض نہیں لیکن یہ چیئر ٹیکرز نہ بنیں، ملک کے معاشی مسائل اتنے گمبھیر ہیں کہ نگران حکومت سے حل نہیں ہوسکتے، عوام کے چہروں پر لکھا ہوا ہے کہ وہ مشکل اور تکلیف میں ہیں، اگر نگران حکومت بجلی، پیٹرول اور ڈالر کی قیمت نیچے لاسکتی ہے تو اپنا جادو ضرور دکھائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر سکندر میندھرو پیپلز پارٹی کا اثاثہ تھے، انہوں نے کہا کہ آج عوام مشکل میں ہے، معاشی صورتحال دن بدن بدتر ہوتی جا رہی ہے، آج عوام کے لیے بچوں کی فیسیں دینا مشکل ہو گیا ہے، لوگوں کو فکر ہے بجلی کے بل کیسے ادا کریں۔
سابق وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کا منشور عام آدمی کے مسائل کا حل ہے، پیپلز پارٹی نے اقتدار میں آکر ہمیشہ معاشی بحران کا مقابلہ کیا، جیالے الیکشن کے لیے تیار ہیں، ایک بار پھر پیپلز پارٹی کامیاب ہو گی، ملکی مسائل راتوں رات حل کرنے کا وعدہ نہیں کروں گا، پیپلزپارٹی کی حکومت میں عام آدمی کو ریلیف ملتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام پیپلز پارٹی کا ساتھ دیں، نوجوان قیادت کی ضرورت ہے، پیپلز پارٹی واحد چوائس ہے جو مشکلات سے نکال سکتی ہے، الزام تراشی کے بجائے مسائل کا حل نکالنا چاہتے ہیں، عوام نے تمام جماعتوں کا اقتدار دیکھا ہے، الزام تراشی، تقسیم کے بجائے عوام مسائل کا حل چاہتے ہیں، مسائل صرف نوجوان قیادت ہی حل کر سکتی ہے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ سی ای سی میٹنگ میں دو رائے پر غور کیا گیا، سی ای سی میں سب نے کہا آئین کے مطابق 90 دن کے اندر الیکشن ہونے چاہئیں، سی ای سی فیصلوں کا پابند ہوں، اگلی سی ای سی میٹنگ لاہورمیں ہو گی، اگر کسی اور کی کوئی رائے ہو گی تو اسے سی ای سی میں رکھیں گے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ اگر ڈنڈے سے بجلی، ڈالر، پٹرول کی قیمت کم ہو سکتی ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا، نگران حکومت نہیں عوام کے منتخب نمائندے ہی مسائل حل کر سکتے ہیں اور تمام مسائل کا حل جمہوریت ہے، نگران حکومت اپنا کام کرے اور ماضی کی پالیسیوں کو جاری رکھے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق نگران حکومت سےکوئی اعتراض نہیں،وہ اپنا کام کریں، نگران حکومت نئی پالیسیاں نہیں بنا سکتی، کیئر ٹیکرز اگر چیئر ٹیکرز بنیں گے تو اعتراض ہو گا، انہوں نے کہا کہ اگر عدم اعتماد کے بجائے الیکشن میں جانا تھا تو پی ڈی ایم ہمارا ساتھ نہ دیتی، میرا خیال ہے پی ڈی ایم ماضی کے بجائے آگے دیکھے۔
بلاول بھٹو کا مزید کا کہنا تھا کہ اس وقت تاریخی مہنگائی ہے، نفرت، الزام تراشی کے بجائے آگے بڑھنا ہو گا، انہوں نے کہا کہ 90 دن میں الیکشن، سی ای سی اور عوام کے حکم کا پابند ہوں، گھر کے معاملے پر آصف زرداری کے حکم کا پابند ہوں۔