لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے نگران حکومت کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کر دیا گیا۔ پیپلز پارٹی کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے ، پی پی کو لیول پلئینگ فیلڈ ملنی چاہیے۔
تفصیلات کے مطابق لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی ( سی ای سی ) کا اجلاس ہوا جس میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرمین و سابق صدر آصف علی زرداری نے شرکت کی۔
شازیہ مری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں معاشی حالات بہت خراب ہیں، مہنگائی بڑھ رہی ہے، سیلاب کے بعد سندھ میں بہت تباہی ہوئی اور صوبے کے لوگ بہت متاثر ہوئے ہیں، ملک کے حالات میں تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
پی پی رہنما کا کہنا تھا کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے خط سے الیکشن کے موضوع پر کنفیوژن پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے، ہم نے آئین کی پاسداری کرنی ہے، فیصلہ کرنا ضروری ہے کہ الیکشن کمیشن کو لکھا گیا خط درست تھا یا غلط تھا، جس شخص نے خط لکھا ان کو تاریخ کے اعلان کا اختیار تھا بھی کے نہیں، صدر مملکت بیچ کی گیم کھیلتے ہیں، انکے پاس الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرنے کا اختیار نہیں۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کی تاریخ کوئی بھی دے یہ پیپلزپارٹی کا مسئلہ نہیں، ہمیں صرف جلد از جلد آئین کے مطابق الیکشن چاہیئں، حلقہ بندیوں کے معاملے میں بھی ہم بحث نہیں کرتے، مگر امید کرتے ہیں کہ الیکشن جلد ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے ، پی پی کو لیول پلئینگ فیلڈ ملنی چاہیے۔ شفاف الیکشن کرانے کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے، الیکشن آئین کے مطابق جلد از جلد کرایا جائے، طے ہوا تھا کہ ملک میں الیکشنز ایک وقت میں ہوں گے، جب تمام فیصلے ہوگئے تھے تو ایک لیڈر نے میں نہ مانوں کی سیاست شروع کی، ملک میں تمام اسٹیک ہولڈر کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
شازیہ مری کا کہنا تھاکہ اس ملک کو آئین اور قانون کے تحت چلایا جائے، نگران حکومت پچھلی حکومت کے فیصلے کیسے موڑ سکتی ہے، الیکشن کمیشن اس پر کیوں خاموش ہے، الیکشن کمیشن ٹرانسفر پوسٹنگ نہیں کراسکتا، میرے حلقے میں سکول کی تعمیر کو روک دیا گیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں سکیورٹی کے معاملات پیچیدہ ہیں، الیکشن کےحوالے سے تجاویز ابھی آرہی ہیں ، ہماری جماعت میں ہر فیصلے میں قیادت اور کارکنان کو اعتماد میں لیا جاتا ہے، ہمارے حتمی فیصلے ابھی آنے ہیں۔