کولمبو: سابق چیف سلیکٹر پاکستان کرکٹ ٹیم محمد وسیم اور سابق کوچ ثقلین مشتاق کپتان بابر اعظم کے ڈریسنگ روم میں کھلاڑیوں پر غصہ کرنے کی خبریں سامنے آنے پر پھٹ پڑے۔
ثقلین مشتاق نے ڈریسنگ سے باہر بات پھیلانے والے پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی یہ خبریں دے رہا ہے اسے میرا سلام ہے، یہ خبریں سچی ہیں یا جھوٹی انہیں پھیلاکر آپ بہت اچھا کام کر رہے ہیں، آپ ٹیم کے خیر خواہ ہو، محب وطن ہو آپ کے ایک ملین فالوورز ہونے چاہئیں، جب بھی کوئی ٹیم میچ ہارتی ہے تو پلیئرز اور اسپورٹس اسٹاف سے زیادہ کسی کو دکھ نہیں ہوتا، اس دوران اپنی اولاد بیگم بھی اچھی نہیں لگ رہی ہوتی۔
محمد وسیم کا کہنا تھا کہ اندازہ نہیں کہ ان خبروں میں کتنی صداقت ہے، ہر طرف یہ بات چل رہی ہے لیکن ڈریسنگ روم کی باتوں کا باہر آنا بہت غلط ہے، پچھے دو سے ڈھائی سالوں کے دوران ہم نے اس پر بہت کام کیا، اس دوران کسی کو بھی ڈریسنگ روم کی کوئی بھی بات باہر نکلتی نظر نہیں آئی لیکن ان دو ڈھائی سالوں سے قبل ایک ٹرینڈ تھا کہ میٹنگ ختم ہونے سے پہلے ہی ڈریسنگ روم سے چیزیں باہر نکلنا شروع ہوجاتی تھی۔
انہوں نے کہاکہ ٹی وی پر ٹکرز آجاتے تھے، ڈریسنگ روم کی باتیں باہر لانے والے کرکٹرز سے متعلق سوال پر محمد وسیم نے کسی کا نام لیے بغیر کہا وہ جتنے بھی ٹیم میں تھے اب نہیں ہیں لیکن اب جو ہوا اندازہ نہیں کہ اس میں کتنے فیصد صداقت ہے۔
محمد وسیم کاکہنا تھا کہ اگر بابر نے غصہ کیا بھی ہے تو اس میں کوئی برائی نہیں کیونکہ کپتان کا حق ہے کہ وہ اپنے غصے کا اظہار کرے لیکن جو مزید تفصیلات سامنے آرہی ہیں کہ کھلاڑیوں نے یہ کہا وہ کہا یہ پاکستان کرکٹ کیلئیاچھی صورتحال نہیں ہے۔