دفاعی صنعت میں ترکیہ کی کامیابیاں عالمی پریس کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔
لندن سے شائع ہونے والے دی اکانومسٹ میگزین نے اس میدان میں ترکیہ کی کامیابیوں کے لیے وسیع کوریج دی ہے۔
میگزین میں "دنیا کے نئے ہتھیار بنانے ولالے ملک سے تعارف” کے زیر عنوان مضمون میں لکھا ہے کہ "ترکیہ کے اسلحہ ڈیلرز دفاعی مصنوعات کی برآمد میں ترقی یافتہ ممالک کو کمزور کر رہے ہیں۔”
دی اکانومسٹ نے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ SIPRI کی 2022 کی رپورٹ بھی شامل کی ہے۔
SIPRI کی رپورٹ کے مطابق، ترکیہ کی اسلحہ کی برآمدات میں گزشتہ پانچ سالہ مدت کے مقابلے میں 2018-2022 میں 69 فیصد اضافہ ہوا اور اسلحے کی عالمی منڈی میں اس کا حصہ دگنا ہو گیا ہے۔
تجزیہ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 2023 میں ترکی کا اسلحہ برآمد کرنے کا ہدف 6 بلین ڈالر ہے۔