ترکیہ قومی اسمبلی کے اسپیکر نعمان قورتلمش نے انقرہ میں خود کش بم حملے کے بارے میں سوشل میڈیا سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "ہمارے دلیر پولیس اہلکار اور سکیورٹی ادارے ملک سے دہشت گردوں اور ان کے ان داتاوں کی برطرفی کے لئے نہایت مصّمم شکل میں کام کر رہے ہیں اور ہم ایک دفعہ پھر اس پہلو پر زور دینا چاہتے ہیں کہ اس عظیم جدوجہد میں ہم اپنی سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہیں”۔
ترکیہ کے وزیر انصاف یلماز تُنچ نے بھی سوشل میڈیا سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "یہ حملے دہشت گردی کے خلاف ترکیہ کی جدوجہد کے راستے میں کبھی بھی رکاوٹ نہیں بن سکیں گے۔ ہم دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کو ہر شعبے میں جاری رکھیں گے”۔
حزب اقتدار جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے ترجمان عمر چیلک نے بھی جاری کردہ بیان میں انقرہ میں خود کش حملے کی مذّمت کی اورکہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد پُر عزم شکل میں جاری رہے گی۔
حزب اختلاف ریپبلکن پیپلز پارٹی کے چیئر مین کمال کلچدار اولو نے بھی مذّمتی بیان میں کہا ہے کہ "دہشت گردی ایک انسانی جُرم ہے۔ یہ دہشت گردی خواہ جو بھی کر رہا ہے اور جس طرف سے بھی کی جا رہی ہے بحیثیت ملک ہم سب مِل کر اس کے خلاف جدوجہد کریں گے اور کسی بھی غدارانہ کاروائی کی اجازت نہیں دیں گے”۔
قومی موومنٹ پارٹی کے چیئر مین دولت باہچہ لی نے بھی سوشل میڈیا سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ” دہشت گرد تنظیمیں اور ان کے حامی ایڑھی چوٹی کا زور لگا لیں لیکن اپنے مذموم ارادوں میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ہم اپنے ملّی اتحاد و اخوّت کے ساتھ دہشت گردی کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکیں گے”۔
ای پارٹی کی چیئر مین میرال آق شینر نے بھی کہا ہے کہ ” میں، حملے پر قابو پانے والے دلیر پولیس اہلکاروں کا شکریہ ادا کرتی ہوں اور زخمی پولیس اہلکاروں کے لئے عاجل شفا کی متمنی ہوں”۔