پی کے کے دہشت گرد تنظیم کے یکم اکتوبر 2023 کو انقرہ میں سیکیورٹی ڈائریکڑیٹ جنرل پر دہشت گرد حملے کی کوشش پر سیکیورٹی اور خفیہ معلومات کے معاملات کے علاوہ تنظیم کے پراپیگنڈا کا سد باب کرنے اور حکمت عملی خبر رسانی عوامل کے لحاظ سے غور کرنا ذی فہم ہو گا۔ کسی دہشت گرد حملے کے بعد سیکیورٹی اداروں سمیت سماج میں صدمے اور غیر یقینی کے احساسات پیدا ہو جاتے ہیں۔ سیکیورٹی اور خفیہ اداروں کے نقطہ نظر سے معمول کے آپریشن کا عمل درآمد عیاں ہے۔ تاہم، سیکیورٹی اور انٹیلی جنس کے عمل کو مؤثر طریقے سے فعال کرنا اور حملے کے بعد دہشت گردی کے نفسیاتی اور سماجی اثرات کو کم کرنا اور اس لمحے پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لیے اسٹریٹجک خبر رسانی کو نافذ کرنا ایک دوسرے کے ساتھ مربوط عوامل ہیں۔ کیونکہ اس طرح کے واقعات کے خلاف تیز رفتار ردعمل نہ صرف فوری نتائج کا تعین کر سکتا ہے بلکہ قومی سلامتی اور سماجی تانے بانے کی طویل المدتی ڈگرکا بھی تعین کر سکتا ہے۔ ا س مرحلے پر ایک حکمت عملی خبر رسانی کی ، پروپیگنڈے کی روک تھام کے لحاظ سے حیاتی اہمیت کے حامل ہونے پر زور دینے کی ضرورت ہے۔
سیتا سیکیورٹی ریسرچ ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر مراد یشل طاش کا مندرجہ بالا موضوع پر جائزہ ۔ ۔۔
دہشت گرد حملے کے بعد افراتفری کے لمحات میں پورے معاشرے کی توجہ اس واقعے کی طرف مبذول کرائی جاتی ہے۔ خبر رساں ادارے تفصیلات کے حصول کی جدوجہد کرتے ہیں، عینی شاہدین اپنے تاثرات کو بیان کرتے ہیں اور معاشرہ اس سانحے کا مفہوم نکالنے میں مصروف ہو جاتا ہے۔ سوشل میڈیا کے تعامل میں اس عمل کو کنٹرول کرنا تقریباً ناممکن ہے جو کہ فوری پر گردش کرنے لگتا ہے اور اکثر درست معلومات پر مشتمل نہیں ہوتا۔ ماہرین اپنے پاس موجود محدود معلومات کے ساتھ فوری تجزیہ کرتے ہیں۔ عام صارفین جذبات پر مبنی پوسٹس کا اشتراک کرتے ہیں، جب کہ مفاد پرست گروپ جو افراتفری کے ماحول سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، ایک ایسا تعامل کا نیٹ ورک قائم کرتے ہیں جو عمل میں ہیرا پھیری کرے گا اور الجھنوں کو جنم دے۔ ٹھیک ایسے ماحول میں دہشت گرد پروپیگنڈے کو جڑ پکڑنے اور پھیلانے کے لیے سود مند زمین مل سکتی ہے، ذہنوں کا الجھاؤ اور احساسات کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے یہ اس کا استحصال کر سکتے ہیں۔ حملے کے بعد پروپیگنڈے کو روکنے کی فوری ضرورت بنیاد پرستی کو روکنے کے حوالے سے ایک اہم مرحلہ ہے۔
حملے کے فوراً بعد انتہا پسندانہ مواد کی نمائش ان افراد کو بنیاد پرست بنا سکتی ہے جو جذباتی طور پر کمزور ہیں یا جوابات کی تلاش میں ہیں۔ بنیاد پرستی کے ماحول کو روکنے کے لیے اس صورتحال کا سد باب کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ دہشت گردی کا پروپیگنڈہ اکثر حملہ آوروں کی تعریف کرکے انہیں نام نہاد "ہیرو” کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یہ صورتحال بنیاد پرستی کے عمل میں شامل افراد کو اس سے ہو بہو حملے کرنے کی ترغیب دے سکتی ہے، لہذ ا فوری کارروائی کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔
درحقیقت اتوار کے حملے کے چند دن بعد، PKK دہشت گرد تنظیم نے اسی طرح کا طریقہ کار اپناتے ہوئے سوشل میڈیا پر گہما گہمی کا بازار گرم کیا گہما گہمی کا باادشش کرتا روں کیاور حملے کے ذریعے اپنے علاقے کو بڑھانے کی کوشش کی۔ سماجی سالمیت کا تحفظ ایک ایسا مقصد ہے جسے حملے کے بعد مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ دہشت گردی کے پروپیگنڈے کا مقصد معاشروں میں تقسیم اور اختلاف پیدا کرکے نفسیاتی خدشات کو گہرا کرنا ہے۔حملے کے فوراً بعد اس بیانیے کا مقابلہ کرنا سماجی ہم آہنگی اور اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے بہت ضروری ہے۔ حملے کے بعد کے عمل کو منظم کرنے کے سلسلے میں جوابی پروپیگنڈے کو روکنے کے لیے عوامی تحفظ کو یقینی بنانا سب سے اہم عمل ہے۔ اسی لیے درست معلومات اور کھلی بات چیت عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بہت ضروری ہے۔ پروپیگنڈے کے ذریعے پھیلائی گئی غلط معلومات یا افواہیں خوف و ہراس یا گمراہ کن اقدامات کا باعث بن سکتی ہیں۔ اس نکتے پر نئے مواصلاتی ڈھانچے اور ماڈل (خاص طور پر سنٹر فار کمبیٹنگ ڈس انفارمیشن)، جسے ترکیہ نے حالیہ برسوں میں نافذ کیا ہےجو محکمہ اطلاعات کی سربراہی میں عمل کے انتظام کے لحاظ سے صحیح معلومات کو غلط معلومات سے الگ کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگرچہ سرکاری معلومات کو غیر سرکاری معلومات سے بدلنے کی سماجی میڈیا کی طاقت کو بالائے طاق رکھنے سے فوری ردعمل پروپیگنڈے کو پھیلنے اور جڑ پکڑنے سے روکنے کا اثر رکھتا ہے۔ لہذادہشت گردی کے خطرے سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے، ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ دہشت گردی کے پروپیگنڈے کو روکنا اور دہشت گرد حملوں کے تناظر میں اسٹریٹجک مواصلات کا انتظام کرنا بہت اہمیت کا حامل ہے۔
دہشت گردی کے پراپیگنڈے کا سد باب کرنا، ایک نظریاتی جنگ میں ہونے کو قبول کرنے سے شروع ہوتا ہے۔ کامیابی حاصل کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ایسے جوابی مکالمے تیار کیے جائیں جو نہ صرف انتہا پسندانہ نظریات کو چیلنج کریں بلکہ امید، رواداری اور امن کا متبادل وژن بھی پیش کریں۔ یہ جوابی بیانیے قائل کرنے والے، جذباتی طور پر بازگشت پیدا کرنے والے اور انتہا پسندی کے حامیوں کے زیر اثر ہونے والے حلقوں سے متعلق ہونے چاہییں۔ مزید برآں یہ جنگ ایسی نہیں ہے کہ کوئی بھی تنظیم تنہا لڑ سکے۔ کامیابی صرف اسی وقت حاصل کی جاسکتی ہے جب حکومتیں، ریاست کے مختلف ادارے، ٹیکنالوجی کمپنیاں، میڈیا، این جی اوز اور معاشرہ اس وجودی خطرے سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی کے تحت کام کریں۔اس لحاظ سے میڈیا اورٹیکنالوجی فرموں پرایک اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ واقعے کی رپورٹنگ کرتے وقت میڈیا کا لہجہ، حملے کے دوران حاصل کی گئی تصاویر کو شیئر کرنا، ماہرین کا انتخاب اور قانونی بنیادوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامیہ کے طریقہ کار کے مطابق کام کرنا، حملہ اور سٹریٹجک مواصلات کے مؤثر نفاذ کو یقینی بناناسب کلیدی اہمیت کے حامل ہیں تاکہ ایسے ماحول کو پیدا ہونے سے روکا جا سکے جس کو دہشت گردوں نے نشانہ بنایا ہو۔
جیسا کہ اتوار کو ہونے والے حملے میں دیکھا گیا، کچھ میڈیا پلیٹ فارمز کی اوپن سورس تصاویر کو ناظرین یا پیروکاروں کے ساتھ شیئر کرنا سب سے بڑی غلطیوں میں سے ایک ہے جسے نہیں کرنا چاہیے۔
میڈیا کے علاوہ، ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز سے انتہا پسندانہ مواد کا تعین کر کے اسے فوری طور پر ہٹا دیں۔ تاہم، موجودہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کی فوری ردعمل کی صلاحیت بہت محدود ہے۔ اگرچہ ترکیہ میں اس موضوع پر قانونی ضابطے موجود ہیں، تب بھی ان کے موثر نفاذ کے حوالے سے مسائل در پیش ہیں۔ اس میدان میں مکمل طور پر کامیاب ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔ چونکہ کمزور سماجی بیداری سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس وقت تعلیم اور این جی اوز کے شعبے پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ اگرچہ اس سوال کا پوری طرح سے جواب دینا ممکن نہیں کہ سوشل میڈیا پر انفرادی ذمہ داری کہاں سے شروع ہو کر کہاں ختم ہوتی ہے، لیکن وزارت قومی تعلیم کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے مزید منصوبے شروع کرنا بہت مفید ہو گا، جو کہ سوشل میڈیا کی نئی حقیقت ہے۔ ایسا ہے کہ جدوجہد کے عوامی اور سماجی پہلوؤں کو زیادہ مؤثر طریقے سے منظم کرنے کے لیے NGOs کو اس عمل میں شامل کرکے تعلیمی نصاب میں اس شعبے میں نئےاسباق کا اضافہ کرنا حد درجے ضروری ہے۔