اقوام متحدہ :اسرائیل فلسطین کشیدگی پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بند کمرے میں ہونے والا ہنگامی اجلاس بے نتیجہ ختم ہو گیا، نہ تو کوئی باقاعدہ قرارداد پیش کی جا سکی اور نہ ہی کوئی مشترکہ اعلامیہ یا بیان جاری کیا جا سکا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حماس کے اسرائیل پر حملے کی مذمت کریں تاہم امریکی اور اسرائیلی مطالبات اور دباؤ کے باوجود کئی ارکان نے حماس کے حملوں کی مذمت نہیں کی۔
حماس کے اسرائیل پر حملے کے معاملے پر سلامتی کونسل کے اجلاس میں اتفاق رائے نہ ہونے پر امریکا نے افسوس کا اظہار کیا۔
خبر ایجنسی کے مطابق ملاقات کے دوران روس نے سلامتی کونسل کے دیگر رکن ممالک سے اتفاق نہیں کیا۔
ملاقات میں روسی سفیر نے فوری جنگ بندی اور بامعنی مذاکرات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل فلسطین کے حوالے سے دہائیوں قبل طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کرے۔
ملاقات کے دوران چینی سفیر کا کہنا تھا کہ یہ غیر معمولی بات ہے کہ سلامتی کونسل نے کچھ نہیں کہا لیکن شہریوں کے خلاف تمام حملوں کی مذمت کی۔
واضح رہے کہ ہفتے کی صبح غزہ سے اسرائیل پر 7000 راکٹ فائر کیے گئے تھے، جس کے بعد فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑ گئی تھی، فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے حملوں میں ایک افسر اور 50 صہیونی فوجی بھی شامل تھے۔ زمین، سمندر اور ہوا. 700 سے زائد اسرائیلی ہلاک جب کہ 2200 سے زائد زخمی اور 100 سے زائد کو یرغمال بنا لیا گیا۔
