ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ایران حماس کےحملوں میں ملوث نہیں ہے:خامنہ آئی

ایران کے رہبراعلی آیت اللہ علی خامنہ ای نے  فلسطینی تنظیم حماس کے اسرائیل پر حملے میں تہران کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے،خیال رہے کہ ہفتے کے روز ڈرامائی انداز میں شروع کیے گئے حملے میں سیکڑوں اسرائیلی ہلاک ہوگئے ہیں۔

ایران نے اس سے قبل حماس تحریک کی طرف سے ہفتے کی صبح اسرائیل پرکیے گئے اچانک حملے میں اپنے ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ الزامات سیاسی محرکات پر مبنی ہیں۔

اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ ہم فلسطین کی غیرمتزلزل حمایت کرتے ہیں، لیکن ہم فلسطینی ردعمل میں حصہ نہیں لیتے، اس طرح کی کارروائیاں فلسطینی خود کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

دوسری طرف ایرانی امور خارجہ کے ترجمان نے پیر کے روز کہا کہ تہران پر حماس کی طرف سے اسرائیل کے خلاف شروع کیے گئے اچانک آپریشن میں ملوث ہونے کا الزام سیاسی محرکات پر مبنی ہے۔

امور خارجہ مزید کہا کہ تہران فلسطین سمیت دیگر ممالک کے فیصلوں میں مداخلت نہیں کرتا۔

اسرائیل نے باضابطہ طور پر اس حملے میں ایران کے ملوث ہونے پر انگلی نہیں اٹھائی تاہم، بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ غزہ سے حماس کے حملوں میں ایران کی معاونت حاصل رہی ہے۔

وال سٹریٹ جرنل نے اتوار کو رپورٹ میں کہا تھا کہ ایرانی سکیورٹی اہلکاروں نے حماس کی طرف سے اسرائیل پر کیے گئے اچانک حملے کی منصوبہ بندی میں حصہ لیا تھا، مبینہ ایرانی معاونت سے شروع کیے گئےاس حملے میں سینکڑوں اسرائیلی شہریوں کی موت واقع ہوئی ہے۔

امریکی اخبار نے رپورٹ کیا کہ ایران نے گذشتہ پیر کو دارالحکومت بیروت میں ہونے والی ایک میٹنگ کے دوران اس حملے کے لیے گرین سگنل دیا تھا۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن نے اتوار کو سی این این کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ہم نے ابھی تک اس بات کے شواہد نہیں دیکھے کہ ایران نے اس مخصوص حملے کی ہدایات دی تھی یا اس میں اس کا ہاتھ ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں