کراچی:امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ کراچی کے ساڑھے تین کروڑ شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی اور اسرائیل کی مذمت کے ایک نکاتی ایجنڈے میں جمع ہوجائیں اورجماعت اسلامی کے تحت 15 اکتوبر کو شاہراہ فیصل پر دوپہر 3بجے تاریخی اور عظیم الشان ” فلسطین مارچ” میں شریک ہوں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جمعہ کو بھی شہر بھر میں فلسطنیوں سے اظہار یکجہتی کیا جائے گا ، نماز جمعہ کے خطبات اور تقاریر میں علمائے کرام اس حوالے سے عوام الناس کو حالیہ صورتحال سے آگاہ کریں ۔ اسرائیل کی ناپاک ریاست کسی صورت قبول نہیںکریں گے ،نگراں وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ سن لیں کہ ان کو کسی نے یہ حق نہیں دیا کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے دو ریاستی حل کی بات کریں۔
انہوں نے کہاکہ ناپاک ریاست اسرائیل کے وجود کو ختم کرنے کے سوا کوئی حل موجود نہیں ،قائد اعظم نے واضح طور پر کہا تھا کہ اسرائیل ناپاک اور ناجائز ریاست ہے اسے قبول نہیں کیا جائے ، 23مارچ 1940میں فلسطینیوں کے حق کے لیے بھی قرارداد پاس کی گئی تھی جو تاریخ پاکستان ہے ، اگر کوئی اسے بدلنے کے لیے امریکہ کی چاپلوسی کرے گا تو وہ بانی پاکستان ،ریاست پاکستان اور امت کا بھی غدا ر ہوگا۔
امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ عالم اسلام کے حکمرانوں کو فلسطینیوںکی پشت پر آنا چاہیئے ، حماس کے مجاہدین کو دہشت گرد قراردینے والا امریکہ خود ریڈ انڈینز کی لاشوں پر بننے والی ریاست ہے ۔
انہوں نے شہری حالات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مرتضیٰ وہاب کا تین یوسیز سے انتخابات میں حصہ لینا الیکشن قوانین کی خلاف ورزی ہے ، پہلے الیکشن کمیشن نے خود کہا تھا کہ ایک شخص مختلف یوسیز سے انتخاب نہیں لڑسکتا لیکن اب اسے تسلیم کیا جارہا ہے ، ایک طرف قانون کی خلاف ورزی اور دوسری طرف مرتضیٰ وہاب کو جتوانے کے لیے ان کے مقابلے میں کھڑے ہونے والوں پر دباؤ ڈال کر بٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ وزیر داخلہ اس حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دیں اور جے آئی ٹی بنائیں جس میں مختلف ایجنسیز کو بھی شامل کیا جائے ۔