ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

تجزیہ 59

حماس سے منسلک القسام بریگیڈیز  اور غزہ میں  متعین دیگر فلسطینی گروپوں  نے طوفان اقصیٰ کے نام سے اسرائیل کے خلاف ایک  وسیع پیمانے کی فوجی کاروائی شروع کی۔ایک طویل تیاری کے بعد  ایک غیر متوقع حملے کے ساتھ غزہ کے محاصرہ کو توڑنے والے مسلح  مزاحمتی گروہوں نے علاقے میں اسرائیلی فوجی اڈوں پر قبضہ  جما لیا اور بیک وقت اسرائیلی بستیوں کو نشانہ بنایا۔ اسرائیل نے پہلے دھچکے پر قابو  پانے کے بعد غزہ پر شدید بمباری کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اسرائیلی فوج   کی جانب سے علاقے پر بری کاروائی کی تیاری کرنا اور   ایک بار پھر لبنان کی اسرائیل سے ملحقہ سرحدوں پر  جھڑپوں کو چھیڑنا  خطے میں کسی عظیم جنگ کی راہ ہموار کرنے کے خطرات  کو جنم دے رہا ہے۔

سیتا خارجہ پالیسی محقق جان اجون کا اس موضوع کے حوالے سے جائزہ ۔۔۔

حماس کی مسلح شاخ عزت الدین القسام بریگیڈ اور  اس کا ساتھ دینے والے  غزہ کے دیگر فلسطینی مزاحمتی گروہوں نے اسرائیلی خفیہ سروس اور فوج  کے خلاف اچانک وسیع پیمانے کے حملے شروع کر دیے۔ایسا دکھتا ہے کہ فلسطینی گروہوں  نے ایک طویل عرصے سے خفیہ طریقے سے اس کاروائی کی تیاری کرتے ہوئے  اپنے آپ کو تیکنیکی لحاظ سے بھی تقویت دی ہے۔ جاری کردہ ویڈیوز میں مشاہدہ ہوتا ہے کہ  القسام اور دیگر گروہوں کے ڈراؤن اور پیرا موٹر جیسے عناصر کو استعمال کرتے ہوئے غزہ  کے ارد گرد  قائم 4 فوجی اڈوں کو بیک وقت  اپنے قبضے میں لے لیا۔بعد ازاں سینکڑوں فلسطینی جنگجو علاقے میں اسرائیلی بستیوں میں گھس آئے اور کافی حد تک ان پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے اور پھر تقریباً 200 فوجیوں اور آباد کاروں کو پکڑ کر غزہ لے آئے۔

 اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس کی کمزوریاں سامنے آئیں، ان نقصانات نے اسرائیل کو سخت دھچکہ لگایا۔ جب کہ اسرائیلی فوج 48 گھنٹے تک غزہ کے تقریباً دوگنے علاقے کو کنٹرول نہ کر سکی، اس نے  پہلی مداخلت کے بعد غزہ پر شدید بمباری شروع کر دی۔جہاں انہوں نے غزہ میں پہلے سے جاری ناکہ  بندی کو مکمل طور پر بحاقصانات نے اسرائیل کے اندر ایکل کر دیا، وہیں انہوں نے علاقے کی بجلی اور پانی بھی منقطع کر دیا۔ اسرائیلی سیاسی اور فوجی حکام بہت سخت بیانات دینے کے ساتھ ساتھ زمینی کارروائی کی تیاریوں پر بھی زور دے رہے  ہیں۔ اسرائیل نے واضح طور پر جنگی جرائم کا ارتکاب کرتے ہوئے  تقریباً 20 لاکھ لوگوں کے مقیم ہونے والےغزہ میں اجتماعی سزا نافذ کر دی ہے ۔ شہر کی تمام لائف لائنیں منقطع ہیں تو  بمباری میں فوجیوں اور عام شہریوں کے درمیان تفریق  کرنے کا بھی مشاہدہ نہیں ہو رہا۔  ابتک ایک ہزار کے قریب غزہ کے مکین اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔جبکہ   القسام کے بریگیڈز  میزائل  داغنے اور گاہے بگاہے سرنگوں کے ذریعے  علاقے میں سرایت کر کے  اسرائیل کو جواب دینے کی کوشش میں ہیں۔ لبنان کے ساتھ اسرائیل کی شمالی سرحد پر وقتاً فوقتاً جھڑپیں ہو رہی ہیں اور حزب اللہ اور اسرائیلی فوج ایک دوسرے پر گولی  چلا رہے ہیں۔ لیکن یہ  دو طرفہ  چھیڑا چھاڑی کسی بھی وقت قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔خاص طور پر اگر اسرائیلی فوج غزہ کے خلاف  بری کارروائی شروع کرتی ہے، لبنانی محاذ کھولنا اور شام/گولان کے محور کو شامل کرنا ممکنہ منظرناموں میں سے ایک ہے۔ امریکہ  کی طرف سے  خطے میں طیارہ بردار بحری جہازوں کی تعیناتی  کو مد نظر رکھنے سے کہنا ممکن ہے کہ  حالات میں   کسی بھی وقت کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ اسرائیل اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس کے خلاف ہونے والے اس حملے کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے، یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ایران نے حالیہ برسوں میں حماس کی نمایاں سطح  پر  فوجی مدد کی ہے، اور یہ بھی دعوے سامنے آئے ہیں  کہ ایران نے خطے میں عرب۔ اسرائیل تعلقات  کی بحالی کے بر خلاف  ایسا قدم اٹھایا ہے۔ تاہم، اس تناظر  میں  ہمیں جغرافیائی سیاسی چالوں سے ہٹ کر ایک حقیقت کو نہیں بھولنا چاہیے۔ فلسطینی 75 سال سے زیادہ عرصے سے اسرائیل کے زیر قبضہ ہیں، ان کی زمینوں پر قبضہ کیا جاتا ہے، قتل عام کیا جاتا ہے، اور انہیں پناہ گزین بننے پر مجبور کیا جاتا  ہے۔ مغربی طاقتیں اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کرتی ہیں۔ خاص طور پر اب نیتن یاہو کی کابینہ اور طرز عمل نے، جو کہ ایک انتہائی دائیں بازو کی صیہونی حکومت ہے، نے فلسطینیوں کی امیدوں  کو مزید توڑ تے ہوئے  انہیں لاچارگی میں  عسکری مزاحمت پر مجبور کیا ہے ۔ ان کی طرف امدادی ہاتھ بڑھانے والا واحد ملک  ایران ہے۔ اب دنیا کو دو ریاستی حل پر توجہ دینی چاہیے جو فلسطینیوں کے حقوق کو یقینی بنائے۔ اس کی علاقائی سالمیت کے ساتھ ایک خودمختار فلسطینی ریاست کہ جس کا دارالحکومت القدس ہو کے قیام کے  بغیر خطے میں استحکام کا حصول کبھی بھی ممکن نہیں  ہو گا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں