مقبوضہ بیت المقدس: صہیونی ریاست اسرائیل کے زیر اثر مغربی میڈیا ایک بار پھر روایتی گھٹیا پن پر اتر آیا اور غزہ پر اسرائیلی جارحیت سے منہ موڑ کر حماس کے خلاف پروپیگنڈے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے لگا۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق مغربی میڈیا اسرائیلی حکومت کے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے خلاف من گھڑت دعوؤں کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے نہ صرف غیر حقیقی مواد پیش کرنے لگا بلکہ شواہد چھپانے اور دونوں جانب سے انصاف کی بنیاد پر مؤقف لینے جیسے بنیادی صحافی اصولوں سے بھی روگردانی کرتے ہوئے صہیونی حکومت سے اپنی وفاداری نبھانے میں مصروف ہے۔
واضح رہے کہ مغربی میڈیا ہمیشہ سے اسلامو فوبیا کے تحت مسلم مخالف مواد کو بڑھا چڑھا کر پیش کرکے اور ایسے متنازع اور غیر قانونی اقدامات جس میں اسلام اور مقدس شخصیات کی توہین کا پہلو ہو، کو آزادی اظہار رائے کا عنوان دے کر مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
حال ہی میں امریکی نشریاتی ادارے کی جانب سے براہ راست نشریات میں دعویٰ کیا گیا کہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس اسرائیلی بچوں کو زندہ مار رہی ہے، اسی طرح مزاحمتی کارروائیوں کو حملہ ظاہر کرکے مغربی میڈیا صہیونی ریاست کی فلسطینی علاقوں خصوصاً غزہ پر جارحیت کو جائز قرار دینے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
امریکی ٹی وی پر اسرائیلی جھوٹے دعووں کی بنیاد پر نشر کردیا گیا کہ حماس بچوں کو زندہ جلانے (مارنے) میں مصروف ہے، جب کہ بعد میں خود نیوز چینل کی رپورٹر نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے اس عمل پر معافی مانگ لی ہے۔صحافی نے بتایا کہ یہ الزامات دراصل اسرائیلی حکومت کے تھے، جب اسرائیلی وزیراعظم براہ راست ٹی وی پر تھے اور اس طرح کے دعوے کررہے تھے، جو گمراہ کن ثابت ہوئے۔ صحافی نے معذرت کا اظہار کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ مجھے اس سلسلے میں محتاط رہنا چاہیے تھا۔
دوسری جانب برطانوی میڈیا میں بھی ایسی خبریں جاری کی گئیں، جس میں اسرائیلی دعوے کو بڑھایا گیا کہ حماس بچوں کو زندہ مار رہی ہے، تاہم اس سلسلے میں کوئی تصویر ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا۔ اگرچہ ایسی خبروں میں گمراہ کن رپورٹنگ کے ساتھ غزہ میں زخمی ہونے والے بچوں کی تصاویر بھی دکھائی گئیں، لیکن اسرائیلی دعووں کے ثبوت کے طور پر کوئی مواد نشر یا شائع نہیں کیا گیا، جس سے اس پروپیگنڈے کے غلط او ربے بنیاد ہونا ثابت ہوتا ہے۔
TWO SEPARATE COMMUNITY NOTES BOTH BEING SHARED AT THE SAME TIME SAYING OPPOSITE THINGS…
One says the image Ben Shapiro posted depicting a baby burned alive by Hamas is AI-generated.
The other says it’s real.
THIS IS THE FINAL STRAW! COMMUNITY NOTES CAN’T BE TRUSTED ⚠️ pic.twitter.com/a2FuxXWP7g
— Matt Wallace (@MattWallace888) October 13, 2023
ایک برطانوی صحافی ہیری فیئر کے مطابق مغربی میڈیا نے اسرائیل فلسطین تنازع کو رپورٹ کرنے میں جانبداری کا مظاہرہ دکھایا ہے۔
متذکرہ بالا جعلی خبروں کی طرح گزشتہ دنوں ایک تصویر بھی مغربی میڈیا خصوصا سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی، جس میں بتایا گیا کہ یہ اسرائیلی بچے کی جلی ہوئی باقیات ہیں اور یہ بچہ حماس کے اسرائیلی بستیوں پر میزائل حملوں کے دوران جل کر ہلاک ہوا۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اسرائیلی اکاؤنٹس سے یہ تصویر وائرل کی گئی، تاہم بعد ازاں اس کی تصدیق سے پتا چلا کہ یہ آرٹی فیشل انٹیلی جنس (یعنی مصنوعی ذہانت) سے بنائی گئی تصویر ہے اور اس کا دنیا میں کوئی وجود نہیں ہے۔اس تصویر پر صارفین نے تبصرے بھی کیے اور واضح کہا کہ یہ ایسے بچوں کی تصاویر وائرل کی جا رہی ہیں جنہیں کبھی کسی نے دیکھا تک نہیں۔
یہ دعوے عین اسی طرح سے حماس ے خلاف کیے گئے، جس طرح چند روز قبل امریکی صدر جوبائیڈن نے الزام عائد کیا تھا، تاہم بعد میں وائٹ ہاؤس کی جانب سے وضاحت پیش کی گئی اور بتایا گیا کہ صدر نے یہ دعویٰ اسرائیلی رپورٹس ہی کی بنیاد پر کیا تھا جب کہ خود اسرائیلی وزارت خارجہ نے تصدیق کی تھی کہ وہ اس الزام کے درست ہونے کے حوالے سے یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔
عرب ٹی وی نے تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے تصویر کے اصل یا جعلی (مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی) ہونے کی تحقیق کی تو پتا چلا کہ حماس کے خلاف استعمال کی گئی تصویر آرٹی فیشل انٹیلی جنس یعنی مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی تھی۔
یاد رہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری جھڑپوں میں مغربی ممالک خصوصاً اسرائیلی حمایت رکھنے والی ریاستوں سے حماس اور فلسطین کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، اور اس سلسلے میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس (سوشل میڈیا) کو استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے گمراہ کن پوسٹیں بہت جلدی وائرل ہو رہی ہیں۔