غزہ: حماس نے اعلان کیا ہے کہ شکت قبول نہیں کی جائے گی ،مزاحمت جاری رہے گی،ہتھیار ڈالنے کے بجائے باعزت طور پر شہید ہونا پسند کریں گے۔ ہمارا عزم ناقبلِ شکست ہے۔ ہم آزادی اور خود ارادیت کے لیے اپنی جائز جنگ سے دستبردار نہیں ہوں گے۔
حماس کے ترجمان نے انخلا کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم غزہ میں اسرائیلی دہشت گردی کا مقابلہ کریں گے، ہمارا غیر متزلزل عزم غزہ میں اسرائیلی درندگی کا تعاقب جاری رکھے گا ۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے کھلے عام فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کے اپنے منصوبے کا اعلان کیا ہے، مغربی حکومتوں کے تعاون سے صہیونی اداروں نے جنگ شروع کی ہے، جنگ کے دوران غزہ پر 6000 سے زیادہ بم برسائے گئے، صیہونیوں کی جانب سے کی جانے والی شدید بمباری کے نتیجے میں تقریباً 500 بچے المناک طور پر شہیدہو چکے ہیں۔
ترجمان نے کہاکہ صہیونیوں نے مساجد، چرچ، تعلیمی اداروں، رہائش گاہوں اور طبی سہولیات کے مراکز کو بم دھماکوں سے نشانہ بنایا، پھر بھی یہ لوگ ہمیں ہی دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ آج ہم نے عرب،مسلم اور مغربی دنیا میں لاکھوں افراد کو غزہ کے دلیر فلسطینیوں کی حمایت کرتے ہوئے دیکھا ہے، ہم ان کی یکجہتی کے لیے تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں اور ان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ سرحدوں کی طرف مارچ کریں اور اس تاریخی موڑ میں اپنا کردار ادا کریں جو ہماری آزادی اور تمام عربوں اور مسلمانوں کے وقار کی بحالی کا ذریعہ بنے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ مغربی ممالک میں رہنے والے باضمیر افراد سے اپیل کی کہ وہ اسرائیلی درندگی کے خلاف اپنا کردار ادا کریں، اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈالیں کہ وہ نیتن یاہو اور اس کی فاشسٹ حکومت کی حمایت ترک کر دیں۔
ترجمان نے کہا کہ غزہ میں جو کچھ اسرائیل کر رہا ہے وہ غیر انسانی ہے اور وحشیان عمل ہے اور ان تمام قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی ہے جن پر نام نہاد آزاد اور جمہوری ممالک کا دعویٰ ہے کہ وہ ان پر یقین رکھتے ہیں۔ لیکن ہمارا عزم اٹوٹ ہے۔ ہم آزادی اور خود ارادیت کے لیے اپنی جائز جنگ سے دستبردار نہیں ہوں گے۔