اسلام آباد: چیئرمین تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کا دفعہ 161 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے تحریری بیان دے دیا۔
اعظم خان کے دیے گئے تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ سائفر کے ذریعے عمران خان فوج پر دباؤ ڈالنا چاہتے تھے، جس کے لیے انہوں نے ایک خاص پلان تیار کیاجبکہ سائفر کے حوالے سے اسپیکر کے غیر قانونی رولنگ چیئرمین پی ٹی آئی کی بطور وزیر اعظم ہدایات پر دی گئی۔
اعظم خان نے کہاکہ سائفر کی کاپی جب وزیر اعظم طلب کرتا ہے تو اسی طریقے سے واپس کرتا ہے، لیکن عمران خان نے سائفر کی کاپی حاصل کرنے کے بعد غائب ہونے کا اعلان کیا، فارن سیکریٹری نے 9مارچ کو سائفر کی کاپی وزیر اعظم کے حوالے کرنے کا کہا تھا لیکن وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سائفر معاملے پر چیئرمین پی ٹی آئی کو پہلے ہی آگاہ کردیا تھا۔
اعظم خان کے تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے سائفر کو امریکی بلنڈر قرار دیتے ہوئے عدم اعتماد آنے کے بعد اپوزیشن اور اداروں کے خلاف مؤثر بیانیہ ترتیب دینے کی ہدایت کی۔