ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اسرائیل کا غزہ کے اسپتال پر بمباری سے لاتعلقی کا جھوٹ، عالمی میڈیا نے پکڑ لیا

گزشتہ روز غزہ کے ایک اسپتال میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں  500 سے زائد افرادلقمہ اجل بن گئے، مگر اس کے باوجود اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ یہ حملہ ہم نے نہیں “اسلامی جہاد” نے کیا ہے،تاہم عالمی میڈیا نے اسرائیل   کے اس دعوے کی قلعی کھولتے ہوئے اسے جھوٹ کا پلندہ قراردیاہے۔

گزشتہ رات شمالی غزہ میں واقع العہلی العربی بیپٹسٹ اسپتال پر ہونے والے مہلک ترین حملے میں سینکڑوں افراد کی شہادت کے فوراً بعد ہی اسرائیلی حکومت نے اس حملے کا ذمہ دار غزہ میں لڑنے والے ایک گروپ اسلامی جہاد کو ٹھہرایا تھا۔

 بنجمن نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ یہ حملہ اسرائیل نے نہیں کیا، تاہم ماہرین اور  عالمی میڈیا سے وابستہ صحافیوں نے  اسرائیل کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے۔

اسرائیل نے دعویٰ کیا  تھا کہ “متعدد ذرائع سے ملنے والی انٹیلی جنس رپورٹس اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ غزہ میں اسپتال کو نشانہ بنانے  کا ذمہ دار “اسلامی جہاد” ہے۔تاہم، این بی سی نیوز کے غیر ملکی نمائندے راف سانچیز نے کہا کہ اسلامی جہاد کے راکٹ “ایک ہی حملے میں سینکڑوں لوگوں کو اس طرح مارنے کی صلاحیت  نہیں رکھتے جس طرح اسرائیل کے اعلیٰ دھماکہ خیز مواد، خاص طور پر بنکر بسٹر بم جو غزہ کے نیچے حماس کی سرنگوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

بی بی سی کے رپورٹر جان ڈونلڈسن نے کہا کہ ’’اسرائیلی فضائی حملوں کے علاوہ دھماکے کے حجم کو دیکھتے ہوئے یہ اور کیا ہو سکتا ہے؟ کیونکہ جب ہم نے غزہ سے راکٹ فائر ہوتےدیکھے  تو اس پیمانے کے دھماکے کبھی نہیں دیکھے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی کی ایسی دروغ گوئی نئی نہیں،اس سے قبل مئی 2022 میں مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی جارحیت کی کوریج کے دوران الجزیرہ کی صحافی شیریں ابواخلے کے قتل کے بعد بھی اسرائیل نے اس کے قتل سے سے صاف انکار کیا اور الزام لگایا کہ وہ ایک فلسطینی بندوق بردار کی فائرنگ سے ہلاک ہوئی تھی۔ مہینوں بعد اسرائیل نے اس معاملے میں کوئی کارروائی کیے بغیر اپنی غلطی تسلیم کر لی۔

بنجمن نیتن یاہو کے سرکاری ڈیجیٹل ترجمان حنانیہ نفتالی نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم “X” پر اپنے اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں اعتراف کیا کہ اسپتال پر حملہ ہم نے کیا ہے تاہم  اسرائیلی حکام کے دباؤ پرانہوں نے یہ پوسٹ ڈیلیٹ کردی۔

کئی بین الاقوامی صحافیوں نے اسپتال پر حملے میں اسرائیل کے ممکنہ کردار کی نشاندہی کرنے کے لیے شہری مقامات پر حملے کے طریقہ کار کی وضاحت  بھی کی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا حوالہ دیتے ہوئے، وائس نیوز رپورٹر ہند حسن نے کہا  کہ 7 اکتوبر سے  زخمیوں کی دیکھ بھال کرنے والوں کے خلاف 51 حملے ہو چکے ہیں۔

انٹیلی جنس معلومات کے دعوے کے باوجود اسرائیل نے ابھی تک کوئی ایسا ثبوت  فراہم نہیں کیا ہے جس سے ان کے پاس حملے میں اسلامی جہاد کا کردار ثابت ہو تاہم المیہ یہ ہے کہ اسرائیل سے یکجہتی کے اظہار کے لیے تل ابیب پہنچنے والے امریکی صدر جو بائیڈن بھی حملے کے حوالے سے اسرائیلی بیانیے کی جگالی کر رہے ہیں ۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں