خیرپور: ایک مقامی عدالت نے خیرپور کے علاقے رانی پور حویلی میں کمسن ملازمہ فاطمہ پھوریو کے قتل کیس میں ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
کیس میں پیر اسد شاہ، پیر فیاض شاہ، حنا شاہ اور امتیاز میراسی کو 13 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر سینٹرل جیل بھیج دیا گیا۔
حنا شاہ کے ڈرائیور اعجاز خاصخیلی کو خیرپور پولیس نے کراچی سے گرفتار کیا جبکہ اسدشاہ کے گھر سے 11 دیگر افراد کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔
اسد شاہ کی حویلی میں 10 سالہ فاطمہ انتقال کر گئی تھی اور اس کی المناک موت کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
ڈی آئی جی سکھر جاوید جسکانی کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ میں نابالغ ملازمہ کے ساتھ جنسی زیادتی کی تصدیق ہوئی ہے۔ واقعے کے بعد پولیس نے ملزم اسد شاہ کو گرفتار کر لیا۔
اس سے قبل فاطمہ کی والدہ نے شکایت کی تھی کہ “ایس ایچ او خانواہین غنی دایو نے مجھے اغوا کرنے یا قتل کرنے کی دھمکیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ میری مرحوم بیٹی کے خلاف غلیظ زبان استعمال کر رہے ہیں۔
ایس ایچ او خانواہین پولیس رانی پور پیروں کا مرید تھا۔ انہوں نے الزام لگایا اور خانواہین پولیس افسر کے خلاف تحفظ کا مطالبہ کیا۔