ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اسرائیل کی بے جا حمایت امریکا کو مہنگی پڑگئی، محکمۂ خارجہ میں بغاوت کے خدشات

واشنگٹن: امریکا کی جانب سے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی صہیونی ریاست اسرائیل کی بے جا  حمایت نے اپنے ہی محکمۂ خارجہ کے اہل کاروں میں سخت بد دلی اور مایوسی پیدا کردی ہے، جس کےنیتجے میں  محکمے میں بغاوت کی اطلاعات پر  امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن کو محکمے کے عملے کے نام خط لکھنا پڑگیا۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق  امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے ان اطلاعات پر کہ غزہ پر اسرائیلی حملے کے بعد امریکی انتظامیہ کی پالیسی پر محکمہ خارجہ کے اہلکار عدم اطمینان کا شکار ہیں  اور اب حکم عدولی  کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے،محکمے کے اہلکاروں کے نام ایک خط لکھا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اپنے خط میں   تسلیم کیا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ اور اس کے بعد امریکا کی اسرائیل کے حق میں بے جا حمایت کا اظہار کرنا محکمے کے ملازمین پر گہرا اثر انداز ہوا ہے اور واشنگٹن کی جانب سے اس تنازع سے متعلق حکومتی موقف پر وزارت  خارجہ کے اندر سخت بے چینی پائی جاتی ہے ۔

ایک باخبر ذریعے نے اس حوالے سے تصدیق کی ہے کہ بلنکن کا پیغام وزارت کے اندر مایوسی اور بغاوت کی اطلاعات کا جواب نہیں  ،جب کہ محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ محکمہ خارجہ کے اندر ہر سطح پر بغاوت پھیل رہی ہے۔

خط میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ ‘‘میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے بہت سے لوگوں کے لیے یہ وقت نہ صرف پیشہ ورانہ  اور ذاتی سطح پر بھی ایک چیلنج تھا،ہمارے سامنے ایک مشکل راستہ ہے’’۔

واضح رہے کہ چند روز قبل  جوبائیڈن کی طرف سے اسرائیل کی بے جا حمایت  کے خلاف امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار جوش پال نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ جوش پال نے LinkedIn پر کہا کہ انہوں نے ‘‘اسرائیل  کی حمایت کی پالیسی سے  اختلاف  کرتے ہوئے میں مستعفی ہورہا ہوں’’۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں