حماس سے منسلک عزالدین القسام بریگیڈ ز اور دیگر مزاحمتی قوتوں کی طرف سے 7 اکتوبر کو ایک غیر متوقع کاروائی کرتے ہوئے اسرائیل کو ہدف بنانے کے ساتھ ہی وسیع پیمانے کی جھڑپیں چھڑ گئیں۔ اسرائیل نے ابتدائی لمحات کی بوکھلاہٹ کے بعد انتقامی طور پر غزہ کی پٹی پر بھاری بمباری شروع کرد ی۔ غزہ میں عظیم سطح کا المیہ درپیش ہے تو اسرائیل زمینی حملوں کی تیاریاں کر رہا ہے۔ ایک جانب اسرائیلی کاروائی کا طریقہ کار غزہ سے فلسطینیوں کو دور ہٹانے کی خواہش کا مظاہرہ کر رہا ہے تو دوسری جانب لبنان محاذ پر حزب اللہ کے اس تصادم میں داخل ہونے سے علاقائی جنگ چھڑنے کا احتمال ہر گزرتے دن قوی ہوتا جا رہا ہے۔
سیتا خارجہ پالیسی محقق جان اجون کا اس موضوع سے متعلق جائزہ ۔
سات اکتوبر کو پو پھٹتے ہی حماس سے منسلک مزاحمتی تنظیم عزالدین القسام اور دیگر فلسطینی گروہوں نے اسرائیل کے خلاف ایک فوجی کاروائی شروع کی، قلیل مدت کے اندر اسرائیل کے غزہ کے ارد گرد موجود فوجی اڈوں پر قبضہ کر لیا گیا ، مزاحمتی گروہوں کے نئے فوجی حربوں، طریقہ کار اور نظریات نے اسرائیل کو ششدر کر کے رکھ دیا۔ اسرائیل کو اس کاروائی کا جواب دینے میں دقت پیش آئی ، فلسطینیوں نے غزہ کے رقبے سے تقریباً 2 تا 3 گنا زیادہ بڑے علاقے کو مختصر دورانیہ کے لیے اپنے قبضے میں لینے میں کامیابی حاصل کر لی۔ اس کے ساتھ ساتھ مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کی جانب سے قائم کی گئی بستیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا اور متعدد آباد کار مارے گئے۔ فلسطینی گروپ 250 کے قریب فوجیوں اور آباد کاروں کو یرغمال بنا کر غزہ لے گئے۔ ان کاروائیوں کے ساتھ بیک وقت اسرائیل پر میزائلوں کی بارش کر دی گئی۔
اس نے اسرائیل کو ایک سخت دھچکا لگایا، غزہ کے ارد گرد کے فوجی یونٹوں کے خاتمے اور ان کی اسیری نے اس سے قبل ایک طویل عرصے تک سامنا نہ ہونے والا ایک خوف پیدا کیا، امریکہ کو سرعت سے فوجی امداد کے بیانات دیتے ہوئے ایک ہوائی پل تشکیل دینا پڑا۔ کچھ مدت بعداسرائیلی فوج نے جوابی حملہ کرتے ہوئے رہائشی علاقوں پر دوبارہ سے قبضہ کر لیا اور غزہ پر شدید فضائی حملے شروع کر دیے۔ پہلے ہی کئی برسوں سے زیر ِ محاصرہ ہونے والے غزہ کو پانی، خوراک اور بجلی کی فراہمی روک کر اجتماعی سزا کے عمل درآمد کا آغاز کیا۔اسرائیلی فوجی اور سول حکام زمینی کاروائی کرنے پر زور دے رہے ہیں تو غزہ کے زیر ِ زمین اور سطح زمین پر ڈھانچوں کو ہدف بنایا جا رہا ہے ، اس تحریر کو شروع کرنے تک غزہ میں 5 ہزار سے زائد انسانوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا ہے کہ جن کی اکثریت خوموت کی نیند سلا دیا گیا ہے کہ ناتین اور بچوں پر مشتمل ہے۔ اسرائیل غزہ کو ناقابل رہائش مقام بنانے اور فلسطینیوں کو جزیرہ نما سینا میں جلاوطن کرنے کے درپے ہے۔ دوسری جانب القسام ایک طویل عرصے سےکسی زمینی حملے کا سامنا کرنے کی تیاری کر چکی ہے۔
غزہ میں سینکڑوں سرنگوں کا جال بچھایا جا چکا ہے اور کسی غیر متناسب قوت کے طور پر رہائشی علاقوں میں جنگ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
ایک طرف غزہ کے محور میں یہ حالات ہیں تو دوسری جانب لبنانی سرحدوں پر بھی تناؤ موجود ہے۔ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 7 اکتوبر سے فرنٹ لائن پر جھڑپیں جاری ہیں گو کہ یہ ابھی تک صحیح معنوں میں جنگ میں تبدیل نہیں ہوئیں، لیکن دونوں طرف سے جانی نقصان کا سلسلہ جاری ہے اور جھڑپوں میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔جبکہ حزب اللہ، جو کہ ایران کے ساتھ وابستہ "مزاحمت” کا حصہ ہے، نے دھمکی دی کہ اگر اسرائیل نے زمینی حملہ کیا تو وہ جنگ میں مکمل طور پر شامل ہوجائیں گے، ایران سے وابستہ دیگر پراکسی عناصرنے بھی عراق اور شام کی سرحدوں پر امریکی اڈوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
اسرائیل غزہ کو بے دردی سے نشانہ بنا رہا ہے اور زمینی حملے سے جنگ کے خطے میں پھیلنے کا قومی امکان ہے۔ یقیناً اس خطے میں امریکی فوجوں کا ڈھیرے لگانا بھی قابل ذکر ہے۔امریکہ جزیرہ کریٹ سے لیکر قبرص تک ایک وسیع پیمانے کی جنگ کی تیاریوں میں ہونے کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ مغربی ممالک کی لامتناہی طریقے سے اسرائیل کی حمایت نے اسے مزید حملہ آور بننے کی راہ ہموار کی ہے تو یہ پورے مشرق وسطی کو کسی تباہی کے دہانے کی جانب دھکیل رہا ہے۔ امریکہ سمیت مغربی ریاستیں اپنے مفادات سے ہٹ کر اسرائیل کے زیر ِ اثر ہیں، ایسا لگتا ہے کہ موجودہ پیش رفت کسی کے لیے بھی بار آور ثابت نہ ہو نے والی اور کشیدگی کی لہر کو مزید تقویت دے گی۔
اس شیطانی دائرے سے نکلنے کے لیے ترکیہ سرعت سے جنگ بندی اور سیاسی حل کی تجویز کے ساتھ اس مسئلے کا حل تلاش کرنے میں مصروف ہے۔ اگرچہ صدر ایردوان غزہ میں اسرائیل کے قتل عام کے خلاف اپنامؤقف بتدریج سخت کرتے جا رہے ہیں ، وہ حل کے لیے جدوجہد بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
آپ ایک ضامن پلیٹ فارم کے ذریعے حل تجویز کرر ہے ہیں اور زور دے رہے ہیں کہ بصورت دیگر سب کے لیے نقصان دہ ثابت ہونے والے تنازعات کے اس جھال سے باہر نکلنا ناممکن بن جائیگا۔ ان کی جنگ بندی، اسرائیلی اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی، غزہ کی ناکہ بندی کو ہٹانا اور غزہ میں ترک فوجیوں سمیت امن دستوں کی تعیناتی کے بعد ایک بڑی بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد جیسی تجاویز توجہ حاصل کر رہی ہیں۔