اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے قرض دہندہ کے آئندہ دورہ پاکستان کے دوران بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سامنے پیش کی جانے والی اپنی ٹیکس سفارشات کو حتمی شکل دے دی ہے ۔
ایف بی آر حکام نے واضح کیا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں کم آمدنی والے افراد پر نئے ٹیکس لگانے پر غور شامل نہیں ہوگا۔ مزید کہا کہ 50,000 روپے ماہانہ آمدنی حاصل کرنے والوں کو انکم ٹیکس سے استثنیٰ حاصل رہے گا۔
ایف بی آر حکام نے تصدیق کی کہ 600,000 روپے سالانہ سے زیادہ آمدنی والے افراد کو حکومت کی طرف سے عائد کردہ ٹیکس کی ادائیگی سے استثنیٰ حاصل نہیں ہے، کیونکہ ٹیکس میں چھوٹ واپس لینے کے لیے کوئی موجودہ پالیسی یا تجویز زیر غور نہیں ہے۔
ایف بی آر نے مزید واضح کیا کہ ورلڈ بینک نے 600,000 کی موجودہ حد پر ٹیکس کم کرنے کی سفارش نہیں کی۔
زرعی شعبے سے حاصل ہونے والی آمدنی پر ٹیکس کے نفاذ کو صوبائی معاملہ قرار دیا گیا۔