غزہ میں جاری اسرائیلی درندگی پر زلزلوں کی پیشن گوئی کرنے والا ڈچ سائنسدان فرینک ہوگریبیٹز بھی بول پڑا،ان کے ٹوئٹ نے یہودیوں کے تن بدن میں آگ لگادی۔
ڈچ سائنسدان نے اپنے ٹوئٹر اکائونٹ میں لکھا کہ “اس سے پہلے کہ کوئی مجھے یہود مخالف کہے، سائنس کے مطابق تمام لوگ افریقہ سےتعلق رکھتے ہیں۔ ہم نے بندر سے انسانوں تک ارتقاء کا سفر کیا ہے، لیکن ان میں سے بہت سے لوگ اب بھی بندروں کی طرح برتائو کرتے ہیں جو لڑتے ہیں۔ 1947 سے پہلے، مسلمان، یہودی اور عیسائی فلسطین میں پرامن طور پر ایک ساتھ رہتے تھے۔”
فرینک ہوگریبیٹز کے ان تبصروں نے یہودیوں کو سیخ پا کردیا، سوشل میڈیا پر ان کے خلاف شدید تنقید کا محاذ کھل گیاہے۔
Today we hear about massive bombing of #Gaza and ground invasion by #Israel. The people of #Palestine have no electricity, no water and no internet. It is completely cut off. This is a war crime of immense proportions committed by a "country” that was not on the map in 1947. pic.twitter.com/eIctcQvZPx
— Frank Hoogerbeets (@hogrbe) October 27, 2023
ہوگریبیٹز نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر فلسطین کے نقشے کے ساتھ ایک ٹویٹ لکھا، جس میں انہوں نے کہا، “آج ہم نے غزہ پر بڑے پیمانے پر بمباری اور اسرائیل کی طرف سے زمینی حملے کے بارے میں سنا ہے۔ فلسطین کے لوگوں کے پاس نہ بجلی ہے، نہ پانی اور ناہی انٹرنیٹ۔ اسے مکمل طور پر منقطع کر دیا گیا ہے۔ یہ ایک جنگی جرم ہے اور ایک ایسے ملک کی طرف سے ہے جو 1947 میں نقشے پر نہیں تھا۔”
Before anyone calls me anti-semitic, according to science, all people originate from Africa. We developed from apes to humans. But many still behave like apes fighting for territory. Before 1947, Muslims, Jews and Christians lived peacefully together in Palestine.
— Frank Hoogerbeets (@hogrbe) October 27, 2023
اس ٹویٹ نے اسرائیل کے حامیوں کی جانب سے ان کے خلاف تبصروں اور تنقید کی ایک لہر کو جنم دیا، جب کہ دوسری جانب ان کی تعریف بھی کی جارہی ہے۔
واضح رہے کہ ڈچ سائنسدان کی پوسٹس عام طور پر زلزلوں اور قدرتی آفات کے بارے میں ہوتی ہیں۔