ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اسرائیل نے غزہ پر دو ایٹم بموں کے برابربم گرائے، ہیومن رائٹس مانیٹر

لندن : یورو میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس آبزرویٹری نے کہا ہے کہ اسرائیل نے 7 اکتوبر سے اب تک غزہ پر 25,000 ٹن سے زیادہ دھماکہ خیز مواد گرایا، جو کہ دو ایٹمی بموں کے برابر ہے۔

جمعرات کو ایک بیان میں جنیوا میں قائم یورو میڈ مانیٹر نے اسرائیلی قابض فوج کے اس اعتراف پر کا ذکر کیا کہ اس کے طیاروں نے غزہ میں 12,000 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا، جس میں ریکارڈ تعداد میں بم تھے، جن میں ہر فرد کا حصہ 10 کلو گرام سے زیادہ تھا۔

آبزرویٹری نے بتایا کیا کہ اگست 1945 میں دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر امریکہ کی طرف سے جاپان کے ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرائے گئے جوہری بم کا وزن تقریباً 15 ہزار ٹن دھماکہ خیز مواد تھا۔

اس رپورٹ کی روشنی میں غزہ پر گرائے گئے دھماکہ خیز مواد کی تباہ کن طاقت ہیروشیما پر گرائے گئے دھماکہ خیز مواد سے زیادہ ہے، یاد رہے کہ جاپانی شہر کا رقبہ 900 مربع کلومیٹر ہے، جب کہ غزہ کا رقبہ 360 مربع کلومیٹر سے زیادہ نہیں ہے۔

یورو میڈیٹرینین آبزرویٹری نے اپنے بیان میں وضاحت کی ہے کہ اسرائیل بڑی تباہ کن طاقت کے حامل بم استعمال کرتا ہے، جن میں سے کچھ کا وزن 150 کلوگرام سے لے کر 1000 کلوگرام تک ہے، اسرائیل کے وزیر دفاع یوو گیلانٹ کے اس بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ صرف غزہ شہر پر 10 ہزار سے زیادہ بم گرائے گئے ۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں