ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پاکستان سے غیر ملکی تارکین وطن کی ملک بدری کا آغاز

پاکستان میں غیر قانونی تارکین وطن جو حکومت کی طرف سے مقرر کردہ تاریخ پر ملک نہیں چھوڑرہے انہیں ملک بدر کر دیا جا رہا ہے۔

 امور داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حفاظتی قوتوں کی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن کو حراست میں لینے کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یکم اکتوبر سے یکم نومبر کے درمیان ایک لاکھ  چالیس ہزار 322 غیر قانونی تارکین وطن رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑ گئے۔

ایک اہلکار نےاپنا نام ظاہر نہ  کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ بہت سے غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کیے جانے کا انتظار ہے  جس پرصورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔

قومی میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم بارڈر  سے 7300 غیر قانونی تارکین وطن کو ڈی پورٹ کیا گیا جن میں 100 معمولی جرائم میں سزا یافتہ افراد بھی شامل ہیں۔

صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں پولیس نے 100 سے زائد غیر قانونی تارکین وطن کو پکڑ لیا۔

پولیس، ملک کے مختلف شہروں میں شناختی کارڈز چیک کرتی ہے، غیر قانونی تارکین وطن کا پتہ لگاتی  ہے اور انہیں ہولڈنگ سینٹرز میں لے جاتی ہے جن  کا طریقہ کار  مکمل ہو جاتا ہے انہیں بسوں کے ذریعے  سرحد پر بھیجا جاتا ہے اور پھر ڈی پورٹ کر دیا جاتا ہے۔

حکام نے نشاندہی کی کہ پرامن وطن واپسی کے عمل کو سبوتاژ کرنے کے لیے خفیہ معلومات موصول ہوئی تھی  لہذا  حفاظتی ادارے  چوکس ہیں۔

پاکستانی حکام کے مطابق ملک میں 17 لاکھ سے زائد غیر قانونی تارکین وطن ہیں، جن میں سے زیادہ تر افغان ہیں۔

وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی نے 4 اکتوبر کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ غیر قانونی تارکین وطن یکم نومبر تک پاکستان چھوڑ دیں۔

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں