ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

امریکہ: امن پسند یہودیوں کا مظاہرہ،اسرائیلی حکومت کے خلاف نعرے بازی

فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے زیر حراست اسرائیلی قیدیوں کے لواحقین نے اپنی  حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ  ہمارے  اقربا کو جلد از جلد وطن واپس لائے، بعض خاندانوں نے پارلیمانی  ارکان پارلیمان کے خلاف ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ شرم کی بات ہے۔

 سات  اکتوبر کو حماس کے ہاتھوں گرفتار کیے گئے اسرائیلیوں کے رشتہ دار اور حامی مغربی  القدس میں اسرائیلی پارلیمان کے سامنے جمع ہوئے۔

غزہ کی پٹی میں حماس کے زیر حراست اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ کی جانب سے انیشیٹو آف فیملیز آف دی نیپڈ اینڈ مسنگ کے زیر اہتمام ہونے والے مظاہرے میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی اور قیدیوں کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔

اسرائیلی قیدیوں کے رشتہ داروں نے اپنے  رفقا کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگائے  جبکہ اسیران کے بعض لواحقین نے بھی اسرائیلی ارکان پارلیمان پر یہ کہہ کر ردعمل کا اظہار کیا کہ ’’شرم کرو، شرم کرو‘‘۔

انتہائی دائیں بازو کی یہودی  لابی  کے  نائب  الموگ کوہن کندھے پر ایک خودکار رائفل اور کمر پر پستول لگائے اس علاقے میں گئے جہاں اہل خانہ مظاہرہ کر رہے تھے،انہوں نے  قیدیوں کے رشتہ داروں سے   تکرار بھی کی ۔

 یاد رہے  کہ اسرائیلی فوج نے اطلاع دی تھی کہ حماس نے 242 اسرائیلی قیدی پکڑ  رکھے ہیں۔

فلسطین کی حمایت میں امریکہ میں ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے مظاہرے میں اسرائیل کے فلسطین پر حملوں کو ’نسل کشی‘ قرار دیا گیا۔

دارالحکومت واشنگٹن میں فلسطین کی حمایت کے مظاہرے میں حاضرین نے کہا کہ صدر جو بائیڈن کی حکومت کی اسرائیل کی حمایت سے  ہم مطمئن نہیں ہیں۔

مظاہرین نے حکومت سے غزہ میں جنگ بندی اور اسرائیل کے لیے امریکی امداد بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

امریکی ریاست نیویارک میں "جیوش وائس فار پیس "نامی تنظیم کی  درخواست  پراکٹھے ہونے والے مظاہرین نے اس جزیرے پر فلسطین کی حمایت کا مختصر مظاہرہ کیا جہاں مجسمہ آزادی واقع ہے۔

ہجوم اس مجسمے کے سامنے جمع ہوا جو آزادی کی علامت ہے،   پورے مجمعے  نےسیاہ ٹی شرٹس پہنے  پوسٹر اٹھائے ہوئے تھے جن پر لکھا تھا  کہ "فوری طور پر جنگ بندی ہونی چاہیے”، "پوری دنیا دیکھ رہی ہے، "فلسطین آزاد رہنا چاہیے”۔

 ایکس   سوشل میڈیا پر امن پسند یہودی گروپ کی پوسٹ کو کچھ ہی وقت میں  آٹھ لاکھ اسی  ہزار سے زیادہ ویوز اور 10 ہزار سے زیادہ لائکس ملے۔

میکسیکو میں بھی ہزاروں افراد نے غزہ پر اسرائیل کے حملوں کے خلاف احتجاج کیا۔

 

تقریباً 100 غیر سرکاری تنظیموں کے ارکان اور شہری دارالحکومت میکسیکو سٹی میں جمع ہوئے اور اسرائیل کے خلاف ردعمل کا اظہار کیا۔

مظاہرین نے اس علاقے کی طرف مارچ کیا جہاں میکسیکو سٹی کا تاریخی چوک اور صدارتی محل واقع ہے۔

کارکنوں نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور "آزاد فلسطین” اور "قتل عام بند کرو” جیسے نعرے لگائے۔

اٹلی کی نیپلز اورینٹیل یونیورسٹی کے طلباء کے ایک گروپ نے بھی فلسطین کی حمایت میں احتجاج کیا۔

طلباء فلسطین کی حمایت کے لیے نیپلز اورینٹیل یونیورسٹی کی مرکزی عمارت گیوسو پیلس میں جمع ہوئے۔

مظاہرین نے محل کی بالکونی سے ایک بینر لہرایا جس پر "فتح تک فلسطین کے ساتھ” تحریر تھا۔

طلباء نے اطالوی حکومت کے خلاف بھی احتجاج کیا، جس پر انہوں نے غزہ پر اسرائیل کے حملوں کے سامنے خاموش رہنے کا الزام لگایا۔

 

قازقستان کی حکومت نے اطلاع دی ہے کہ انہوں نے فلسطینی عوام کو 1 ملین ڈالر کی انسانی امداد فراہم کی ہے۔

قازقستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان ایبک سمادیروف نے اعلان کیا کہ قازق حکومت کی طرف سے مختص کی گئی امداد مشرق وسطیٰ میں اقوام متحدہ کی تنظیم کو منتقل کر دی گئی ہے جو 70 سالوں سے فلسطینی عوام کو ہنگامی امداد فراہم کر رہی ہے۔

 

 

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں