ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

امریکی ذرائع ابلاغ میں بلنکن کے ناکام دورہ مشرق وسطیٰ پر کڑی تنقید

امریکی ذرائع ابلاغ میں امریکہ کے وزیر خارجہ انتھونی بلنکن کے دورہ مشرق وسطیٰ کو ناکام قرار دے کر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

جریدہ ‘دی نیشنل’ نے بلنکن کے دورہ مشرق وسطیٰ کے بارے میں خبر کو "ہفتے کے اواخر میں بلنکن کی مشرق وسطیٰ پالیسی کی ہوا نکل گئی ہے” کی سرخی کے ساتھ شائع کیا ہے۔

دی نیشنل کے مطابق بلنکن کا دورہ  "ناکام ہی نہیں شرمناک بھی ہے”۔

خبر میں کہا گیا ہے کہ صدر جو بائڈن نے غزّہ کو ملیا میٹ کرنے کے لئے اسرائیل کی حمایت کی  ہے لیکن بلنکن اپنے دورہ مشرق وسطیٰ کے دوران  اتحادی ممالک سے اسے قبول نہیں کروا سکے۔ نتیجتاً بائڈن کا دورہ ،’مشرق وسطیٰ حکمت عملی’ کے اختتام کا مفہوم رکھتا ہے۔

خبر میں بلنکن کے دورہ ترکیہ کو بھی جگہ دی گئی  اور کہا گیا ہے کہ صدر رجب طیب ایردوان نے بلنکن کے ساتھ ملاقات  مسترد کر دی  اور وہ صرف وزیر خارجہ خاقان فیدان کے ساتھ ملاقات کر سکے ہیں۔

امریکہ کے وزیر خارجہ کو ایک منفی جواب اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتان یاہو کی طرف سے بھی مِلا ہے۔

نیتان یاہو نے بلنکن کی، انسانی وقفے کی، طلب کو مسترد کر دیا ہے۔

خبر میں کہا گیا ہے کہ بلنکن مصر سے بھی خالی ہاتھ لوٹے ہیں۔ مصر کے وزیر خارجہ سامح شکری نے غیر مشروط فوری فائر بندی کا مطالبہ کیا اور کہا ہے کہ امریکہ انتظامیہ دوہرے معیار پر  عمل کر رہی ہے۔

فرانس  کی خبر ایجنسی ‘اے ایف پی’ نے بھی امریکہ کے وزیر خارجہ انتھونی بلنکن کے دورہ ترکیہ کے بارے میں پُر کشش خبر شائع کی ہے۔

خبر میں کہا گیا ہے کہ صدر رجب طیب ایردوان  اپنے پروگرام میں بلنکن کو جگہ دیئے بغیر  ضلع ریزے کے دورے پر روانہ ہو گئے۔ صدر ایردوان نے امریکی ڈپلومیٹ کو کوئی اہمیت نہیں دی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں