غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی مسلط کی گئی جارحیت سنگین ہوتی جا رہی ہیاور ہر گزرتے لمحے غزہ کے عوام ایک نئے قتل عام اور تباہی کو دیکھ رہے ہیں۔
غزہ میں اسرائیلی فورسز کے حملوں میں پناہ گزین کیمپ اور ہسپتالوں کونشانہ بنایا جارہا ہے ، صیہونی فوج کی شفا،القدس اورانڈونیشیا ہسپتال کے اطراف بمباری کی گئی، اسرائیلی بمباری میں مزید 266 سے زائد فلسطینی شہیدہوگئے جبکہ حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 11 ہزار 100 ہوگئی۔
اسرائیلی فورسز کے حملوں میں 4 ہزار 880 بچے اور 3ہزارسے زائد خواتین شامل ہیں جبکہ32 ہزار سے زائد فلسطینی زخمی ہوچکے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق اس وقت اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ میں موجود ہسپتالوں کا گھیرا وکرلیا ہے، الشفا ہسپتال میں آکسیجن کی کمی اور دیگر وجوہات کی بنا پر بڑی تعداد میں اموات ہو رہی ہیں اور ہسپتال میں لاشوں کے ڈھیر لگ گئے ہیں۔
الشفا ہسپتال کے قرب و جوار میں جھڑپیں جاری ہیں، اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ الشفا ہسپتال کے آس پاس میں حماس کے بندوق برداروں کے ساتھ جھڑپ کر رہی ہے، اس نے دعوی کیا ہے کہ الشفا کمپلیکس کا مشرقی حصہ ہر اس شخص کے لیے کھلا ہے جو وہاں سے نکلنا چاہتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ کے الشفا ہسپتال سے اس کا منقطع ہوگیا ہے، ادارے نے جھڑپوں کے دوران غزہ میں پھنسے ہر فردکی حفاظت کے حوالے سے شدید خدشات کا بھی اظہار کیا۔
عرب میڈیاکا بتانا ہے کہ فلسطینی ہلال احمر کے ترجمان ڈاکٹر عبدالجلیل حنجل نے تصدیق کی ہے کہ غزہ کی پٹی میں 35 میں سے 21 سے زائد ہسپتالوں نے خدمات دینا بند کر دی ہیں ، فسطینی ہلال احمر کو القدس ہسپتال میں طبی عملے تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا ہے۔