ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

او آئی سی سمیت سبھی امریکا کو ناراض نہیں کرنا چاہتے، سراج الحق

لاہور:امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ او آئی سی سمیت کوئی بھی امریکا کو ناراض نہیں کرنا چاہتا۔

منصورہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ فلسطین کی موجودہ صورتحال میں مسلمان حکمرانوں نے جس بے حسی کا ثبوت دیا، اسلامی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔

سراج الحق نے کہا کہ غزہ پر بمباری کو 43 روز گزر گئے، اسرائیلی افواج نے 4 ہزار بچے، 3 ہزار سے زائد خواتین کو شہید کردیا اور اب تک 12ہزار سے زائد فلسطینی جان کی بازی ہار چکے ہیں جب کہ 3 ہزار سے زیادہ ملبے تلے دفن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں تباہی اور ظلم و سفاکیت کے بیچ اسلامی سربراہی کانفرنس کا اجلاس ہوا جس میں امریکا جو اسرائیل کی سرپرستی کررہا ہے ہی سے جنگ بندی کرانے کی اپیل کی گئی۔اعلامیہ محض نرم الفاظ پر مشتمل تھا، جس کا صہیونی ریاست پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ غزہ کے حوالے سے پاکستان کے حکمرانوں اور سیاسی جماعتوں کا کردار بھی خاموشی کے زمرے میں آتا ہے، یہ سب امریکا کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔

امیر جماعت نے کہا کہ اس پوری صورتحال میں ملک میں جماعت اسلامی اہل فلسطین کے لیے بھرپور آواز اٹھارہی ہے۔ ہم نے کراچی میں اور اسلام آباد امریکی سفارت خانہ کے سامنے غزہ ملین مارچ منعقد کیے۔ قومی فلسطین کانفرنس بلائی، سفیروں کو پاکستانی قوم کے جذبات اور مسئلے کی نزاکت پرآگاہی کے لیے القدس کمیٹی تشکیل دی، میں نے ایران، ترکی اور قطر کا دورہ کیا۔ جماعت اسلامی کے اقدامات کے نتیجہ میں پوری ملت اسلامیہ میں اسلام آباد کی ستائش ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ  ہم  کل اتوار کو لاہور میں تاریخی اور فقید المثال غزہ مارچ کا انعقاد کریں گے، یہ اجتماع جہاں ایک طرف اہلیان غزہ کے لیے پیغام ہوگا کہ پاکستانی قوم ان کی پشتیبان ہے، وہیں پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کے حکمرانوں سے اس پرزور مطالبے کا اظہار بھی ہوگا کہ مظلوموں کو بچانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

اس موقع پر سیکرٹری جنرل امیر العظیم، سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف، امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی جاوید قصوری اور امیر جماعت اسلامی لاہور ضیا الدین انصاری ایڈووکیٹ بھی موجود تھے۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ کاش حکومت غزہ کو بچانے کے لیے عالمی سطح پر عملی اقدامات کرتی اور قومی سیاسی جماعتوں کی طرف سے متحد اور منظم ہو کر اہل فلسطین کے حق میں مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دیا جاتا، تاہم یہ محسوس ہو رہا ہے کہ ملک کے حکمران طبقات کو صرف اپنے اقتدار سے غرض ہے اور یہ مسند اقتدار کو ہی اپنے لیے عزت سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ملت اسلامیہ کی بحیثیت مجموعی عزت و تکریم ہی سے اس کے حکمرانوں کا رتبہ بڑھ سکتا ہے۔ افسوس کہ اہل اقتدار نے حمیت، جذبہ ملی پر  امریکا کی خوشنودی کو ترجیح دی اور غزہ میں ظلم پر خاموش رہنا پسند کیا۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ یہ حکمران طبقات ہی ہیں جن کی نااہلی کی وجہ سے ملک میں بدامنی، مہنگائی، قرضے، بے روزگاری اور کرپشن جیسے مسائل موجود ہیں، حکمران گرمیوں میں بجلی اور موسم سرما میں گیس کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام پر ظلم کرتے ہیں۔ انہوں نے آئی ایم ایف کی تابعداری میں غریبوں پر بے تحاشا ٹیکسز عائد کر دیے۔رواں سال کا ٹارگٹ 9415ارب رکھا گیا ہے جو عوام کی جیب سے نکالا جائے گا، یہ استعمار کی وفاداری میں عوام کو نشانہ بناتے ہیں اور امت پر ظلم ہونے کی صورت میں چپ سادھ لیتے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ غزہ میں خوراک، پانی، بجلی کی سپلائی بند ہے۔ شہر میں 36 اسپتالوں میں سے صرف 9 جزوی طور پر کام کر رہے ہیں۔ صہیونی افواج نے اسپتالوں پر بھی ٹینکوں سے چڑھائی کر رکھی ہے، مریضوں، خواتین سے بدتمیزی ہو رہی ہے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ نومولود بچوں کے لیے آکسیجن میسر نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امید کی جا رہی تھی کہ اسلامی سربراہی کانفرنس 57 ممالک کی سطح پر فلسطین فنڈ کے قیام کا اعلان کرتی اور کم از کم اسرائیل کے سفارتی اور اقتصادی بائیکاٹ کا اعلان کیا جاتا، ہونا یہ چاہیے تھا کہ ریاض میں اکٹھے ہونے والے حکمران مغرب اور امریکا کو پیغام دیتے کہ غزہ میں جنگ بندی کرائی جائے اور اسرائیل کی پشت پناہی بند ہو، بصورت دیگر تیل کو بطور ہتھیار استعمال کیا جائے گا، تاہم یہ بیٹھک بھی مایوس کن اور امت مسلمہ کی توقعات کے برعکس ثابت ہوئی۔

سراج الحق نے کہا کہ موجودہ تناظر میں پوری دنیا میں انسانیت سے ہمدردی رکھنے والے عوام اکٹھے ہو چکے ہیں، فلسطین کے حق میں ہر جگہ بڑے بڑے مظاہروں اور مارچز کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ جماعت اسلامی پاکستانی قوم کے فلسطین پر جذبات سے پوری دنیا کو آگاہ کر رہی ہے۔ الخدمت فاؤنڈیشن کی جانب سے غزہ کے لیے امداد اکٹھی کی جا رہی ہے۔ کل اتوار کو ہونے والے غزہ مارچ میں خواتین، بزرگ اور بچے بھی شرکت کریں، آنے والوں کا انتظار اور استقبال کروں گا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں