غزہ: فلسطینی وزارت تعلیم و تربیت نے کہا ہے کہ 7 اکتوبر سے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کے حملوں میں 5 ہزار 600سے زائد بچے ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت طلبا کی ہے۔
فلسطینی وزارت تعلیم و تربیت نے “20 نومبر عالمی یوم حقوق اطفال” کے موقع پر ایک تحریری بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر سے غزہ کی پٹی پر ہونے والے حملوں میں 5 ہزار 600سے زائد بچے، جن میں 3 ہزار سے زائد طلبا بھی شامل ہیں، اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
بیان کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں 23 طلبا اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور اس بات کی نشاندہی کی کہ اسرائیل کے ہاتھوں مارے جانے والے افراد کے حوالے سے ہر شخصیت کے پیچھے ایک کہانی، ایک خواب اور ایک امید پوشیدہ ہے۔
بیان میں بچوں اور تعلیم کے حقوق کا دفاع کرنے والے تمام اداروں اور تنظیموں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنے اپنے دائرہ اختیار میں اپنی ذمہ داریاں ادا کریں اور بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں اور جرائم کو روکیں۔فلسطینی قیدیوں کی ایسوسی ایشن نے بھی “عالمی یوم اطفال” کے موقع پر اسرائیل کے زیر حراست فلسطینی بچوں کے بارے میں ایک تحریری جاری کیا ہے۔