ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

صدر اور الیکشن کمیشن نے انتخابات کیلئے 8 فروری کی تاریخ دیکر آئینی خلاف ورزی کی، جسٹس اطہر

اسلام آباد: عام انتخابات کی تاریخ سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ کے جج  جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ صدر مملکت اور الیکشن کمیشن نے  90 روز کے اندری کی تاریخ نہ دے کر آئینی خلاف ورزی  کی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جسٹس اطہر من اللہ نے اپنا اضافی نوٹ 41 صفحات پر مشتمل جاری کر تے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی ووٹرز کو انتخابی عمل سے باہر رکھنا بنیادی حقوق کے منافی ہے، آئین اور قانون کے بر خلاف نگران حکومتوں کے ذریعے امور چلائے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ   مقررہ وقت میں انتخابات آئینی تقاضا ہے اور انتخابات نہ کروا کر عوام کے حقوق کی خلاف ورزی ثابت ہو چکی،صدر یا گورنر انتخابات کی تاریخ دینے کی آئینی ذمہ داری  پوری نہیں کر رہے تو  الیکشن کمیشن کو اپنا کردار ادا کرنا تھا۔

جسٹس اطہر کا کہنا تھا کہ صدر مملکت اور گورنر کو اپنے منصب کے مطابق نیوٹرل رہنا چاہیے، الیکشن کمیشن صدر یا گورنر کے ایکشن نہ لینے  پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں