ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ملی یکجہتی کونسل کاغزہ پر آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان

اسلام آباد: ملی یکجہتی کونسل نے غزہ کے معاملے پر آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان  کردیا۔

کونسل کے قائدین نے غزہ کے مظلوموں کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مسجد اقصیٰ کی حرمت کے لیے پوری امت پر جہاد فرض ہے ۔ کونسل کی ذیلی تنظیمیں کراچی،لاہور،پشاور ،کوئٹہ اور اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرے کریں گی۔

وفاقی دارالحکومت میں ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے قائدین کا اجلاس ہوا جس کی سربراہی اابوالخیر زبیرنے کی۔ اجلاس میں جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ،اسلامی تحریک کے سربراہ علامہ ساجد نقوی اور دیگرنے شرکت کی ۔

اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے کہا کہ آج کے اجلاس کا غزہ کے مظلوم عوام سے یکجہتی کا یک نکاتی ایجنڈا تھا۔ 25 مذہبی جماعتوں نے ملی یکجہتی کونسل نے اجلاس میں اپنی تجاویز دیں ۔ قائدین نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے تجاویز دیں ۔

لیاقت بلوچ کامزید کہنا تھا  کہ عالمی برادری سن لے فلسطینیوں اور کشمیریوں کو حق آزادی دیے بغیر عدل قائم نہیں ہوگا ۔ 15 دسمبر جمعہ کو علمائے کرام صرف غزہ پر خطاب اور قوم احتجاج کرے۔ صرف اسرائیل ہی نہیں امریکا اور برطانیہ کا سفارتی بائیکاٹ کیا جائے۔

اس موقع پر سربراہ ملی یکجہتی کونسل پاکستان صاحبزادہ ابوالخیر زبیر نے کہا کہ غزہ میں ہزاروں زخمی اور ہزاروں لوگ ہی بھوک سے مرنے والے ہیں۔ ایک ہفتے سے خوراک نہیں پہنچ پائی ۔ آج غزہ ہے کل عرب،ممالک اور پاکستان کی بھی باری آسکتی ہے ۔ غزہ میں چھوٹے معصوم بچے ظلم سے بچنے کے لیے پکار رہے ہیں۔ غزہ کی جنگ سب مسلمان کا فرض ہے۔

انہوں نے کہا کہ صومالیہ کے لیے امن مشن پر فوجین گئیں ،غزہ میں کیوں نہیں بھیج سکتے ؟۔ کئی غیر اسلامی ممالک نے اسرائیل سے تعلقات ختم کردیے ہیں ۔ اسلامی حکومتوں کے سربراہان بھی آگے بڑھیں۔ 15 دسمبر اسرائیل کے ظلم و ستم کی مذمت کا دن ہے۔ اسرائیل کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے۔ شادی ہالز. دکانوں، اور مالز پر اسرئیلی مشروبات نہ فروخت کیے جائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ عوام نے بائیکاٹ کیا تو دباؤ مزید مؤثر ہوگا۔ سربراہ تحریک نوجوانان کے سربراہ عبداللہ گل کاکہناتھافلسطین پر کمزوری دکھائی تو پھر کشمیر میں بھی یہی فارمولا لگ سکتا ہے۔ 14 ارب ڈالر ملنے اور عالمی طاقتوں کی حمایت کے باوجود اسرائیل یہ جنگ ہار گیا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں