ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ججزخط کی  انکوائری کیلیے سرکاری کمیشن کی تشکیل قابلِ قبول نہیں، لیاقت بلوچ

لاہور: قائم مقام امیر جماعتِ اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ وزیراعظم اور چیف جسٹس آف پاکستان کی ملاقات کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز کی شکایات پر مبنی خط پر انکوائری کے لیے کمیشن کی تشکیل کا اقدام قابلِ قبول نہیں۔

لیاقت بلوچ نے کہاکہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے کام میں مداخلت کا معاملہ انکوائری کمیشن نہیں براہِ راست عدالتی فیصلے کا متقاضی ہے۔انکوائری کمیشن کے سربراہ جسٹس تصدق جیلانی بلاشبہ ، قابل اور ماہر شخصیت ہیں لیکن جس معاملہ کے لیے انہیں مقرر کیا گیا ہے اس  کے حل کا مناسب ترین فورم سپریم کورٹ ہے۔

انہوں نے کہاکہ  ماضی میں اس نوعیت کے معاملات کی تحقیقات کے لیے متعدد انکوائری، فیکٹ فائنڈنگ کمیشن بنے لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا یا پھر عملدرآمد کے انتظار میں فیصلے فائلوں اور تاریخ میں دفن ہوگئے اور خرابیاں بڑھتی ہی رہیں۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ ملک و ملت بااختیار، طاقتور ریاستی اداروں کے خاص مائنڈ سیٹ کا شکار ہیں، اسی وجہ سے انتخابات، حکومتیں، پارلیمنٹ، اسمبلیاں اور نظامِ حکومت نہیں چل رہااندر ہی اندر بدانتظامی، بداعتمادی، بے یقینی، کرپشن، سجدہ ریزی کرو عزت بچاؤ کی روِش نے پورے قومی وجود کو کینسر زدہ کردیا ہے8 فروری 2024ء انتخابات نے تو ہر ہر پہلو کو بری طرح بے نقاب کردیا ہے، جس کی وجہ سے ہر کوئی بے بس نظر آرہا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں