ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اسرائیل کی رفح پر زمینی حملے کی سازش کامیاب؟

ایک ایسے وقت میں جب پوری دنیا کی توجہ اسرائیل پر ایرانی حملے کے بعد تل ابیب کے جوابی حملے کے امکانات پر مبذول ہے ۔

اسرائیلی میڈیا میں رفح حملے کے لیے امریکی حمایت کی خبریں گردش کررہی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن نے اسرائیل کو ایران کے خلاف محدود کارروائی کی شرط پر رفح میں فوج داخل کرنے کی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔امریکی میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے بعد فلسطینی ایوان صدر نے اس پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

فلسطینی ایوان صدر کے ترجمان نے امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو رفح میں داخلے کی اجازت کو”خطرناک“ قراردیتے ہوئے کہا کہ ہے ہم واشنگٹن سے اس کی وضاحت کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اخبار”اسرائیل ہیوم “نے تین اسرائیلی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ امریکی انتظامیہ نے رفح پر حملہ کرنے کے اسرائیلی فوج کے منصوبے کی منظوری اس شرط پر ظاہر کی ہے کہ اسرائیل ایران کے اندر بڑے پیمانے پر حملہ نہیں کرے گا۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ رفح شہر پر منصوبہ بند حملے کے حوالے سے امریکی حمایت حاصل کرنے کے لیے ایران پر حملےسے فائدہ اٹھانے کو نیتن یاہو کی کامیاب سیاسی چال قرار درہے ہیں۔۔ رفح کے حوالےسے امریکی انتظامیہ کو پیش کئے گئے اسرائیلی منصوبے میں جنوبی غزہ کی پٹی سے شہری آبادی کو نکالنے کا طریقہ شامل تھا۔

حملوں کے جلد آغاز کا ثبوت اس بات سے بھی ملتا ہے کہ اسرائیلی فوج نے توپ خانے یونٹس اور بکتر بند دستوں کو دوبارہ غزہ کی پٹی منتقل کردیا ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی وزارت دفاع نے 40ہزار خیموں کی خریداری کا اعلان کیا ہے جو رفح سے شمالی اور وسطی غزہ کی پٹی کے علاقوں میں جانے والے شہریوں کے لئے مختص کئے جائیں گے۔

دوسری جانب مصر نے بھی رفح کے ساتھ شمالی سرحد سینا میں الرٹ جاری کردیا ہے تاکہ رفح پر ممکنہ اسرائیلی اثرات سے بچا جاسکے۔

امریکی صدر بائیڈن کی جانب سےاسرائیلی زمینی حملے کی منظوری کے بعدپہلے مرحلےمیں مکینوں کو انخلاء سے متعلق آگاہ کیا جائے گا اور دوسرے مرحلے میں ان علاقوں کی نشاندہی کرنا شامل ہے جہاں یہ آبادی منتقل ہوگی۔
اُدھراسرائیل اور حماس کے در

میان کلیدی ثالث کے طور پر کردار ادا کرنے والے قطر کی جانب سے بھی اپنے کردار پر نظر ثانی کی خبریں گردش کررہی ہیں۔ فلسطینی عسکریت پسند گروپ کے ساتھ تعلقات پر تنقید اور اسرائیل کی جانب سےمسلسل الزامات کو مایوسی کی بڑی وجہ قرار دیا جارہا ہے۔

یاد رہے کہ قطر واحدملک ہے جو حماس کے ساتھ تعلقات اور امریکہ کے ساتھ اتحاد کی وجہ سے معاہدہ کرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

جہاں قطر حماس کے سیاسی دفتر کی میزبانی کرتا ہے تو دوسری طرف یہاں10000 فوجیوں پر مشتمل امریکی اڈہ بھی ہے۔
اُدھر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھی اس موقع پر یہ بیان سامنے آیا ہے کہ اسرائیلی کی جانب سےایرانی پر ممکنہ حملے کے دوران اسرائیلی اور امریکی طیاروں کے لئے اپنی فضائی حدود فراہم نہیں کی جائے گی۔

یاد رہے کہ ریاض اور ابوظہبی نے مشرق وسطیٰ میںجاری تنازعات کے دوران غیر جانبدار رہنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ اردن نے بھی اعلان کیا ہے کہ اس کی مسلح افواج نے اپنے شہریوں اور رہائشی علاقوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیےملک کی فضائی حدود کی نگرانی شروع کردی ہے ۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں