ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پاکستانی تجارتی اداروں پر بیلسٹک میزائل پروگرام میں معاونت کا امریکی الزام بلا جوازہے، دفترخارجہ

ترجمان دفترخارجہ نے تجارتی اداروں پر پاکستانی بیلسٹک میزائل پروگرام سے تعلق کا الزام بلا جواز قرار دیدیا۔

امریکہ کی جانب سے پاکستانی بیلسٹک میزائل پروگرام کی معاونت کے الزام میں تجارتی اداروں پر پابندی کی خبروں پر ترجمان دفترخارجہ کا ردعمل دہتے ہوئے ترجمان دفترخارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ ہم امریکا کی جانب سے تازہ ترین اقدامات سے آگاہ نہیں ہیں تاہم پاکستانی تجارتی اداروں پر بیلسٹک میزائل پروگرام سے تعلق کا الزام بلا جواز ہے۔ ہم نے کئی بار نشاندہی کی ہے کہ ایسی اشیاء کے جائز اور سویلین تجارتی استعمال ہوتے ہیں ۔

 ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ ہم تازہ ترین امریکی اقدامات کی تفصیلات سے آگاہ نہیں ہیں لیکن ماضی میں ہم نے کئی ایسے واقعات دیکھےجہاں محض شک پرفہرستیں بنائی گئیں، ماضی میں بھی شک کی بنیاد پر ایسے اداروں کی فہرستیں بنائی گئیں، پاکستان برآمدی کنٹرول کے سیاسی استعمال کو مسترد کرتا ہے۔ اُس وقت بھی ملوث اشیاء کسی کنٹرول لسٹ میں نہیں تھیں لیکن انہیں حساس سمجھا جاتا تھا۔

 ممتاز زہرہ بلوچ  کا کہنا تھا کہ ہتھیار کنٹرول کے دعویدار متعدد ممالک کو ملٹری ٹیکنالوجی کی فراہمی میں استثنا دے چکے ہیں۔ برآمدات پر پابندیاں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی پالیسی قبول نہیں

واضح رہے کہ امریکا نے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں مبینہ تعاون پر 4 کمپنیوں پرپابندی عائد کردی تھی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

پاکستانی تجارتی اداروں پر بیلسٹک میزائل پروگرام میں معاونت کا امریکی الزام بلا جوازہے، دفترخارجہ

ترجمان دفترخارجہ نے تجارتی اداروں پر پاکستانی بیلسٹک میزائل پروگرام سے تعلق کا الزام بلا جواز قرار دیدیا۔

امریکہ کی جانب سے پاکستانی بیلسٹک میزائل پروگرام کی معاونت کے الزام میں تجارتی اداروں پر پابندی کی خبروں پر ترجمان دفترخارجہ کا ردعمل دہتے ہوئے ترجمان دفترخارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ ہم امریکا کی جانب سے تازہ ترین اقدامات سے آگاہ نہیں ہیں تاہم پاکستانی تجارتی اداروں پر بیلسٹک میزائل پروگرام سے تعلق کا الزام بلا جواز ہے۔ ہم نے کئی بار نشاندہی کی ہے کہ ایسی اشیاء کے جائز اور سویلین تجارتی استعمال ہوتے ہیں ۔

 ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ ہم تازہ ترین امریکی اقدامات کی تفصیلات سے آگاہ نہیں ہیں لیکن ماضی میں ہم نے کئی ایسے واقعات دیکھےجہاں محض شک پرفہرستیں بنائی گئیں، ماضی میں بھی شک کی بنیاد پر ایسے اداروں کی فہرستیں بنائی گئیں، پاکستان برآمدی کنٹرول کے سیاسی استعمال کو مسترد کرتا ہے۔ اُس وقت بھی ملوث اشیاء کسی کنٹرول لسٹ میں نہیں تھیں لیکن انہیں حساس سمجھا جاتا تھا۔

 ممتاز زہرہ بلوچ  کا کہنا تھا کہ ہتھیار کنٹرول کے دعویدار متعدد ممالک کو ملٹری ٹیکنالوجی کی فراہمی میں استثنا دے چکے ہیں۔ برآمدات پر پابندیاں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی پالیسی قبول نہیں

واضح رہے کہ امریکا نے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں مبینہ تعاون پر 4 کمپنیوں پرپابندی عائد کردی تھی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں