اسلام آباد : خواجہ سعد رفیق نے نیب آرڈیننس 2024 میں ترمیم کو جس میں کسی ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی مدت 14 سے بڑھا کر 40 دن کرنے کی اجازت کو ’افسوسناک‘ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اسے واپس لیا جائے۔
سابق وفاقی وزیر نے اسلام آباد میں نیب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نیب آرڈیننس ایک آمر نے متعارف کرایا تھا “اس سخت قانون کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔”
پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما نے کہا کہ آرڈیننس کو شرمناک سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا اور بہت سے بے گناہ لوگ اس کا شکار ہوئے۔
نیب آرڈیننس میں ترمیم کی گئی ہے جس کے تحت نیب کیسز میں ملزمان کے ریمانڈ کی مدت 14 دن سے بڑھا کر 40 دن کر دی گئی ہے۔
قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی نے پیر کو دو نئے آرڈیننس، نیب آرڈیننس 2024 اور الیکشنز ایکٹ آرڈیننس 2024 پر دستخط کیے، انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے مشورے پر آرڈیننس پر دستخط کیے ہیں ۔
وفاقی کابینہ کی جانب سے آرڈیننس میں ترامیم کی منظوری کے بعد اعلان کیا گیا۔ نیب کے ترمیم شدہ قانون کے تحت بری مرضی کی بنیاد پر مقدمات بنانے کے جرم میں سزا یافتہ افسر کی سزا کی مدت پانچ سال سے کم کر کے دو سال کر دی گئی ہے۔
الیکشنز ایکٹ آرڈیننس 2024 کے نفاذ کے بعد، الیکشن ٹربیونلز میں حاضر سروس ججوں کے علاوہ ریٹائرڈ ججز بھی اس کے ممبر ہوں گے۔
