صنعتی سرگرمیوں میں کمی واقع ہوئی ہے، بجلی کے بعد گیس کی کھپت بھی کم ہوگئی، زائد گیس کی ترسیلی نظام میں موجودگی سے پائپ لائنز پر دباؤ بڑھ گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 5.13ارب مکعب فٹ کے خطرے کے نشان سے اوپر چلا گیا، گیس پائپ لائنز پھٹنے کا خطرہ پیدا ہوگیا، حکام کا کہنا ہے کہ بجلی کے شعبے میں درآمدی گیس کا استعمال صرف 475ملین مکعب فٹ رہ گیا۔
پاور سیکٹر میں درآمدی گیس کے استعمال سے فی یونٹ لاگت زیادہ آتی ہے، اسی وجہ سے حکام سستے ذرائع کی طرف جاتےہیں۔
سوئی نادرن کا کہنا تھا کہ ترسیل وتقسیم کے نظام کو کوئی خطرہ نہیں ہے، ٹرانسمیشن سسٹم محفوظ اور مسلسل کام کررہاہے۔
