کراچی:امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے بدھ کے روز دارالعلوم نعیمیہ کے مہتمم مفتی منیب الرحمن سے ملاقات کی اور جماعت اسلامی کے تحت اسرائیلی دہشت گردی و جارحیت کے خلاف اور اہل غزہ و فلسطین کے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کی جاری تحریک کے سلسلے میں اتوار 2جون کو شاہراہ فیصل پر ہونے والے ”غزہ ملین مارچ“ میں شرکت کی دعوت دی۔
مفتی منیب الرحمنٰ نے امیر جماعت اسلامی کراچی کا دارالعلوم نعیمیہ آمد پر خیرمقدم کیا،اہل غزہ و نہتے مظلوم فلسطینی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے غزہ ملین مارچ کو وقت کی ضرورت قراردیتے ہوئے بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔
مفتی منیب الرحمن نے کہاکہ غزہ اور فلسطین کے مسلمانوں کے لیے جو بھی تحریک جدو جہد اور مارچ ہوگا،ہم اس کی غیر مشروط طور پر حمایت کریں گے،یہ نہ صرف انسانیت اور مظلومیت کے حوالے سے ضروری ہے بلکہ ہم سب کی دینی، ملی و قومی ذمہ داری بھی ہے۔
انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ او آئی سی کے اجلاس میں غزہ کے مسلمانوں کے لیے کچھ بھی برآمد نہیں ہواجو فلسطین کے مسلمانوں کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے،المیہ ہے کہ عالمی عدالت انصاف کی جانب سے جنگ بندی کے فیصلے کے باوجود رفح باڈر پر بمباری کی جارہی ہے۔
منعم ظفر خان نے کہاکہ اس وقت فلسطین کے اندر رقص ابلیس جاری ہے اور غزہ مقتل بنا ہوا ہے،گزشتہ آٹھ ماہ سے 37ہزار سے زائد بچے،خواتین،بزرگ،نوجوان شہید ہوچکے ہیں، یورپ و مغربی ممالک میں ہر باضمیر شہری اسرائیل کے ظلم کے خلاف آواز بلند کررہا ہے مغرب کی جامعات میں ہزاروں کی تعداد میں طلبا روزانہ نکلتے ہیں، آکسفورڈ،ہارورڈ، کولمبیا یونیورسٹی ہو،اٹلی،جرمنی،فرانس کی جامعات ہوں ہر جگہ وہ اپنے حکمرانوں کے خلاف بھی آواز بلند کررہے ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ مسلم دنیا کے حکمران خاموش ہیں۔
