ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز کے تمام ریسٹورنٹس بند کرنے کا حکم

not to take notice

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے اسلام آباد کے مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں مونال اور دیگر تمام ریسٹورنٹس کو بند کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے انتظامیہ کو حکم دیا کہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں مونال سمیت تمام ریسٹورنٹس 90 دن میں بند کر دیے جائیں۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ نیشنل پارک کو تجارتی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت عظمیٰ نے نیشنل پارک کے باہر زمین کے لیز پر متاثرہ ریستوراں پر غور کرنے کا بھی کہا ہے ۔

اس سے قبل مونال ریسٹورنٹ کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس  جسٹس نے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے کئی دیگر ریسٹورنٹس سے متعلق بھی رپورٹ طلب کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں ا سپورٹس کلب پاک چائنا سینٹر اور آرٹس کونسل نیشنل مونومنٹ کا بھی ذکر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سی ڈی اے حکام کی ایمانداری کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے سوال کیا  سپریم کورٹ کی عمارت بھی مارگلہ نیشنل پارک میں واقع ہے؟ کیا سی ڈی اے کا دفتر بھی اسی پارک میں ہے؟  ’’اگر ایسا ہے تو بہتر ہو گا کہ اتھارٹی اپنی ہی عمارت کو گرانے کا حکم دے‘‘۔

جسٹس عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ پوری دنیا کو معلوم ہے کہ مونال ریسٹورنٹ کے ساتھ کتنے ریسٹورنٹ بنائے گئے؟ “یہ صرف سی ڈی اے ہے، جو بے خبر ہے۔”

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں