اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی کی شرح 48 سے 11 فیصد ہوگئی، بہت جلد مزیدکم ہوگی۔
وزیر مملکت خزانہ و توانائی، سیکرٹری خزانہ اور سیکرٹری منصوبہ بندی کے ہمراہ وفاقی دارالحکومت میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ 2022، اور 2023 میں افراط زر سب کو معلوم ہے، اسی سال روپے کی ڈالر کے مقابلے میں قدر بھی 29 فی صد کم ہوئی اور زرمبادلہ 2 ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گیا تھا، یہ وہ مقام تھا جہاں سے ہم نے اپنا سفر شروع کیا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے مختلف ٹارگٹ مقرر کیے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے 9 ماہ کا اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ پروگرام لے کر بہت حوصلہ افزا فیصلہ کیا، اگر یہ پروگرام نہ ہوتا تو ہم آج اہداف کی بات نہ کررہے ہوتے بلکہ حالات یکسر مختلف ہوتے۔ آئی ایم ایف کے پاس جانے کے سوا کوئی پلان بی نہیں تھا۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح گر کر 48 سے 11 فی صد پر پہنچ چکی ہے اور بہت جلد یہ سنگل ڈیجیٹ تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی ریٹ کو بتدریج کم ہونا چاہیے۔ مہنگائی کی شرح میں کمی ہونے کی وجہ سے ہی اسٹیٹ بینک نے شرح سود کو کم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جاری مالی سال 2023-24ء کے دوران جی ڈی پی کی گروتھ میں بڑی انڈسٹریز سے خاطر خواہ توقعات پوری نہیں ہوئی تاہم زراعت اور لائیو اسٹاک کے نتائج بہت اچھے حاصل ہوئے۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق نتیجہ جولائی اگست تک دیکھ لیں گے، ہم صرف اسلام آباد ائرپورٹ کی نجکاری تک نہیں رکیں گے، سرکاری اداروں میں ایک ہزار ارب روپے کا خسارہ برداشت نہیں کر سکتے۔ اسٹیل ملز کی بحالی کا کوئی امکان نہیں ہے، صرف اسکریپ میں فروخت ہوگی۔ اسٹیل ملز میں لوگ بیٹھے ہیں،گیس بھی استعمال ہو رہی ہے۔ انویسٹمنٹ ٹو جی ڈی پی 50 سال میں کم ترین ہونے کی بات درست ہے، پی ایس ڈی پی میں اہم نوعیت کے منصوبوں کو فنڈز دیں گے، اب ہمارے ہاتھ بندھ چکے ہیں،کم اہمیت کے منصوبوں کو شامل نہیں کرسکتے۔
اقتصادی سروے کے اعداد وشمار
اقتصادی سروے کے اعداد وشمار کے مطابق ملک میں ٹیکس میں دی جانے والی چھوٹ 3 ہزار 879ارب روپے سے زائد ہے، انکم ٹیکس کی مد میں 476.96 ارب روپے، سیلز ٹیکس کی مد میں 2858.721ارب روپے،کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 543.521ارب روپے کی چھوٹ دی جا رہی ہے۔
سروے میں کہا گیا کہ مالی سال 2023-24میں ملکی معیشت(جی ڈی پی)کا حجم 338.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر374.9 ارب ڈالر ہوگیا ہے۔
وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جس جس چیز سے حکومت کو جتنا نکال سکتے ہیں اتنا ہی ملک کے لیے بہتر ہوگا، ہم پاسکو کی ری اسٹرکچرنگ کرنے جارہے ہیں، ہمیں اسٹریٹجک ذخائر رکھنے چاہییں۔ ایف بی آر کے انفورسمنٹ کے پہلو کو نظر انداز نہ کیا جائے، سالہاسال سے انفورسمنٹ ہوئی نہیں ہے، اس لیے لوگ اسے ہلکا سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ رواں سال بھی ٹیکس ریونیو گروتھ30فیصد ہوئی ہے تو اگلا ہدف بھی حاصل ہوسکتا ہے، چین کے ساتھ سی پیک فیز ٹو پر انگیجمنٹ ضروری تھی۔ دورے کا اصل مقصد سی پیک فیز ٹو کی بحالی تھا، یہ بزنس ٹو بزنس ایجنڈا ہے حکومت کے چند پراجیکٹس ہیں، کوشش ہے کہ چین سے گروتھ اورینٹڈ بزنس یہاں منتقل ہو۔ متعدد قومی اقتصادی کونسل کے فیصلے ہم نے ریورس کیے ہیں۔
واضح رہے کہ وفاقی بجٹ برائے سال 2024-25 کل پیش کیا جائے گا۔
