اسلام آباد:وفاقی وزیرخزانہ نے نئے مالی سال 2024-25ء کے لیے 8.5 کھرب خسارے پر مشتمل 18 کھرب 87 ارب روپے سے زائد کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی صدارت میں اجلاس میں وزیر خزانہ نے ایوان میں نئے مالی سال کا بجٹ پیش کیا، اس دوران اپوزیشن ارکان کی جانب سے شور شرابہ اور سنی اتحاد کونسل کے ارکان نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر احتجاج کیا۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں نئے مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ حکومت کی جانب سے کیے گئے اسٹینڈ بائی معاہدے کی تعریف کرنا ضروری ہے، جس کے نتیجے میں ملک کے معاشی استحکام کا راستہ ہموار ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اسٹینڈ بائی معاہدے سے ملک میں جاری غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہوا اور مہنگائی مئی میں کم ہوکر 12فیصد تک آگئی۔
مہنگائی مزید کم ہوگی
وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی کم ہونے کے نتیجے میں اشیائے خور و نوش کی قیمتیں عوام کی پہنچ میں آ گئی ہیں۔ انہوں نے خوش خبری سنائی کہ مالیاتی استحکام کے لیے حکومت کی کاوشیں درست میں ہیں اور اس کے ثمرات توقع کے مطابق حاصل ہو رہے ہیں، جس سے جلد ہی مہنگائی میں مزید کمی آئے گی۔ سرمایہ کار پاکستان میں انویسٹمنٹ کے لیے کئی شعبوں میں مواقع تلاش کررہے ہیں۔
اپوزیشن کا احتجاج
اس موقع پر اپوزیشن ارکان نے قومی اسمبلی میں شور شرابہ کیا جب کہ سنی اتحاد کونسل کے ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوکر احتجاج کرتے رہے اور حکومت کے خلاف نعرے لگاتے رہے۔
بجٹ میں ٹیکس اہداف
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی حکومت کا ٹیکس ریونیو ہدف 12ہزار 970 ارب روپے ہے، نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 4ہزار 845ارب اور گراس ریونیو کا ہدف 17ہزار 815ارب روپے ہے۔ اس کے علاوہ سکوک بانڈز، پی آئی بی اور ٹی بلز سے 5 ہزار 142 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اسی طرح جاری اخراجات کا ہدف 17ہزار 203ارب روپے، سود ادائیگی پر 9 ہزار 775 ارب روپے کےاخراجات ہوں گے۔
تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ
وفاقی حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافہ کردیا۔ وزیر خزانہ کے مطابق گریڈ ایک سے 16 کے ملازمین کی تنخواہوں میں 25 اور گریڈ 17 سے 22 تک کے افسران کی تنخواہوں میں 22 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں 22 فیصد اضافہ کرنے کی تجویز ہے جب کہ کم سے کم ماہانہ تنخوا ہ 32 ہزار سے بڑھا کر 37 ہزار کی گئی ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ پنشن پر 1ہزار 14ارب روپے خرچ ہوں گے۔
نئے مالی سال کے بجٹ کے اہم پوائنٹس
-
مجموعی حجم 18 کھرب 87 ارب سے زائد
-
گریڈ 1 سے16 کے سرکاری ملازمین کے لیے تنخواہ میں 25 فیصد اضافہ
-
گریڈ 17 سے 22 کے سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں 22 فیصد اضافہ
-
سرکاری ملازمین کی پنشن میں 15 فیصد اضافے کی تجویز
-
کم سےکم ماہانہ تنخواہ 32 ہزار سے بڑھا کر 37 ہزار روپےکردی گئی
-
سولر پینل کے لیے خام مال اور پرزہ جات کی درآمد پر رعایت کا اعلان
-
ٹیکس ریونیو کا ٹارگٹ 12ہزار 970 ارب روپے مقرر
-
سکوک بانڈز، پی آئی بی اور ٹی بلز سے 5ہزار142ارب روپے کا ہدف مقرر
-
دفاع کے لیے 2ہزار 122 ارب روپے مختص
-
سبسڈی کی مد میں ایک ہزار 363 ارب روپے مختص
-
ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے 313ارب روپے مختص
-
وفاقی ترقیاتی بجٹ کے لیے 1400ارب روپے مختص
-
آزاد کشمیر کو بجلی کی مد میں 108ارب روپے سبسڈی
-
انجن کپیسٹی کے بجائےگاڑی کی قیمت کی بنیاد پر ٹیکس لینےکا فیصلہ
-
موبائل فونز پر یکساں ٹیکس عائد کرنے کی تجویز
-
ہائبرڈ اور لگژری الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر دی جانے والی رعایت ختم
-
پنشن اخراجات میں کمی کے لیے اسکیم
