نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) دنیا بھر میں ایک سال کے دوران بے گھر افراد کی تعداد میں 10 فیصد اضافہ ہوا اور ان کی تعداد 12 کروڑ سے زائد ہوگئی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ براہ مہاجرین کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق سوڈان، میانمر، یوکرین اور غزہ میں جاری تنازعات کے باعث 2023 ء میں بے گھر افراد کی تعداد میں 8 فیصد اضافہ ہوا۔ ادارے کی سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ مسلسل بارہویں سال بے گھر افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ برس کے اختتام تک یہ تعداد 11 کروڑ 73 لاکھ تک پہنچ گئی۔ رواں سال جنوری سے اب تک مزید لاکھوں افراد کو اپنے گھربار چھوڑنے پڑے ہیں اور ادارے کے تخمینے کے مطابق بے گھر افراد کی تعداد 12 کروڑ سے زائد ہوگئی ہے۔ سب سے زیادہ افراد سوڈان میں بے گھر ہوئے جہاں مسلح تنازع کے باعث 70 لاکھ سے زائد افراد کو گھر چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ ان میں سے 60 لاکھ افراد سوڈان کے اندر موجود ہیں جبکہ 16 لاکھ پڑوسی ممالک پہنچے ہیں۔ غزہ میں ایک تخمینے کے مطابق 17 لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں ،تاہم اقوام متحدہ کا فلسطینی مہاجرین کے لیے کام کرنے والا ادارہ 6 لاکھ سے زائد افراد کا خیال رکھ رہا ہے تو اس گنتی پر نظرثانی نہیں کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 73 فیصد بے گھر افراد 5 ممالک یعنی افغانستان، شام، وینزویلا، یوکرین اور سوڈان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) فلیپو گراندی نے اس حوالے سے عالمی برادری سے فوری اقدامات کرنے کی درخواست کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ادارے کے ناکافی بجٹ سے 2023 ء کا مشکل سال مزید بدتر ہوگیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تنازعات کے سیاسی حل میں بین الاقوامی سیاسی مفادات آڑے آجاتے ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ قیام امن کے لیے کردار نہیں کر رہی۔ یورپ میں غیر ملکی مہاجرین کے خلاف جذبات بڑھ رہے ہیں جبکہ دنیا بھر میں ایک سال کے دوران سیاسی پناہ کے خواہشمند افراد کی تعداد میں 40 فیصد اضافہ ہواہے۔