کراچی:سندھ میں اپوزیشن نے صوبائی حکومت کے بجٹ کو مسترد کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق قائد حزب اختلاف علی خورشیدی اور جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان اور جماعت اسلامی کو آن بورڈ نہیں لیا گیا، بجٹ میں کراچی کیلئے کچھ نہیں ہے۔
سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا کہ سندھ حکومت نے گزشتہ کئی سالوں سے عوام کیلئے کچھ نہیں کیا، اس بجٹ میں بھی لوگوں کو ریلیف نہیں مل سکا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان اور جماعت اسلامی کو آن بورڈ نہیں لیا گیا، ہمارے ارکان اسمبلی بجٹ پر بحث کے دوران تمام تحفظات کا کھل کر اظہار کریں گے۔ سندھ حکومت نے جموریت کی تمام روایتوں کو پامال کرکے بجٹ پیش کیا، قوانین میں پری بجٹ ڈسکشن بھی ہوتی ہے، صوبائی حکومت نے پری بجٹ ڈسکشن نہیں ہونے دی۔ ہم نے گزارشات حکومت تک پہنچانیکی کوشیش کی، حکومت نے ہماری نہیں سنی، ہماری درخواست کو پامال کیا۔
جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق نے کہا کہ سندھ کے بجٹ میں کراچی کیلئے کچھ نہیں، سارا بوجھ غریب تنخواہ دار طبقے پر ڈالا گیا، 100 سے 1000 ایکٹر اراضی پر ٹیکس ٹیرف کے مطابق بڑھایا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی کی ترقی کیلئے 500 ارب روپے مختص کیے جائیں، صوبائی بجٹ میں صوبے کے دارالخلافہ کراچی کیلئے کچھ نہیں ، تباہ حال شہر قائد کی تعمیر کیلئے نہ تو وفاق سنجیدہ ہے نہ ہی صوبہ، بجٹ کراچی والوں کے لئے نیا لولی پوپ ہے۔
محمد فاروق نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی جس وفاقی بجٹ پر تحفظات کا اظہار کررہی ہے صوبائی بجٹ اس ہی کی فرسٹ کاپی (ضمیمہ) ہے، یہ آئی ایم ایف کی اقتصادی غلامی کا صوبائی بجٹ ہے۔
