راولپنڈی: چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ ملک شہزاد احمد نے کہا کہ عدلیہ اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت سے جان چھڑانے کے لیے جدوجہد کررہی ہے اور یقین ہے کہ عدلیہ میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کا جلد اختتام ہوگا۔
راولپنڈی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ ملک شہزاد احمد نے کہا کہ عدلیہ میں اداروں کی مداخلت کی شکایات سامنے آتی رہتی ہیں، دو تین دن پہلے بھی ایک جج کی شکایت سامنے آئی ہے جس میں جج نے مداخلت کے سارے واقعات بیان کیے ہیں، اچھی بات یہ ہے کہ اس جج نے سب کچھ بیان کرنے کے بعد کہا کہ وہ اس کے باوجود خوفزدہ نہیں ہے، صرف چیف جسٹس کے علم میں لانا چاہتا ہے، ان کا نام لینا مناسب نہیں لیکن عدلیہ بغیر لالچ کے کام کر رہی ہے۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ چند کالی بھیڑیں ہر جگہ موجود ہوتیں ہیں، کچھ ججز اپنے کام ریڈرز سے کروا کر چائے پی کر گھر چلے جاتے ہیں، کمرہ عدالت میں ججز کی موجودگی کو دیکھنے کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے لگائے ہیں۔
انہوں نے نے کہا کہ جو ججز کمرہ عدالت میں موجود نہیں پائے گئے ان کے خلاف کاروائی کا آغاز کردیا ہے، مقدمات میں تاخیر کی بڑی وجہ وکلا کی ہڑتال تھی، وکلا کے تعاون سے پنجاب کی عدالتوں میں ہڑتال کلچر کا خاتمہ دیکھنے میں آیا ہے۔
چیف جسٹس کا تھا ہے کہ ملک کے 90 فیصد وکلاء اچھے لوگ ہیں، پنجاب میں 2 لاکھ سے زائد نئے کیسز دائر ہوئے، 3 لاکھ سے زائد کیسز کا فیصلہ ہوا، اس سے زیرِ التواء مقدمات میں واضح کمی ہوئی، راولپنڈی بار کے غیور وکلاء نے قدم پیچھے نہ ہٹائے، وکلاء تحریک کے بعد ججز بحال ہوئے، عہدے جانے کا خوف نہیں، جدوجہد کے بعد جمہوری دور آیا، وکلاء تحریک کے بعد سویلین حکومت کو اتنا لمباوقت ملا، وکلاء تحریک کی وجہ سے مارشل لاء کی لعنت سے جان چھوٹی، سویلین حکومت جیسی بھی ہے لیکن مارشل لاء کی لعنت سے جان چھوٹی، اس ملک میں بہتری لانے کے لیے وکلاء، میڈیا اور پارلیمنٹیرین اپنا اپنا کردار ادا کریں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر سب سے بڑا مسئلہ ہے، تین نسلیں فیصلوں کا انتظار کرتی ہیں، 30، 30 سال لگ جاتے ہیں، مقدمات گواہ پیش کے باعث یہ بیرون ملک مقیم افراد عدالت رجوع نہیں کرتے ہیں۔
