ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

روس نے یوکرین سے مذاکرات کی شرائط کا اعلان کردیا

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)روس کے صدر پیوٹن نے یوکرین کے ساتھ مذاکرات کی شرائط کا اعلان کردیا۔ صدر پیوٹن نے دارالحکومت ماسکو میں روس وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام کی شرکت سے منعقدہ اجلاس میں شرکت کی ۔ انہوںنے کہا کہ اگر یوکرینی حکومت دونیتسک، لوہانسک، خیرسون اور زاپوریا سے انخلا کرے اور ناٹو کی رکنیت سے متعلق کوششوں سے باز آجائے تو اسی صورت میں اس کے ساتھ مذاکرات شروع کیے جا سکتے ہیں۔ سوئٹزر لینڈ یوکرین امن سربراہ اجلاس کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیںلینڈ اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا۔ روس کے بغیر یوکرین اور یورپ کی سلامتی کا حل تلاش کرنا ناممکن ہے۔ دوسری جانب جی 7کے رہنماؤں نے اتفاق کیا ہے کہ ماسکو کے 2022 ء میں اپنے پڑوسی پر حملہ شروع کرنے کے بعد منجمد روسی خودمختار اثاثوں سے حاصل سود کا استعمال کرتے ہوئے یوکرین کو 50 ارب ڈالر کا قرضہ فراہم کیا جائے گا۔ادھر ناٹو کے سیکرٹری جنرل ژینز اسٹولٹن برگ کا کہنا ہے انہوں نے اتحادی ممالک کو تجویز پیش کی ہے کہ جب تک ضرورت پڑے، یوکرین کو سالانہ کم از کم 40 ارب یورو کی فوجی امداد فراہم کرنے کی مالی ضمانت دی جائے۔برسلز میں ناٹو کے وزرائے دفاع کے اجلاس کے سلسلے میں پہلے دن کی نشست کے اختتام پر پریس کو ایک بیان دیا۔ اسٹولٹن برگ نے اس بات پر زور دیا کہ اس ملک کو تقریباً تمام تر فوجی امداد ناٹو کے اتحادیوں کی طرف سے فراہم کی گئی ہے اور یہ نیا منصوبہ اس امداد کو ٹھوس بنیادوں پر کھڑا کرے گا اور ہمیں دور بینی کا موقع فراہم کرے گا۔ اسٹولٹن برگ نے کہا کہ اتحادیوں کی یوکرین کو سالانہ فوجی امداد تقریباً 40 ارب یورو ہے ۔ انہوں نے اس رقم کو کم سے کم معیار کے طور پر مقرر کرنے اور جب تک یوکرین کو ضرورت ہو اسے فراہم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔واضح رہے کہ ناٹو کے وزرائے دفاع کا اجلاس جاری ہے اور اجلاس میں ترکیہ کی نمائندگی وزیر دفاع یاشار گولیر کر رہے ہیں۔

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں