ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

12 گھنٹوں سے زیادہ لوڈشیڈنگ قبول نہیں، کہیں عوام بے قابو نہ ہوجائے:علی امین گنڈاپور

پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ صوبے میں 12 گھنٹوں سے زیادہ لوڈشیڈنگ کسی صورت قبول نہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگوں کا ردعمل قابو سے باہر ہو جائے ۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیرصدارت بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے متعلق اجلاس ہوا جس دوران صوبے میں لوڈشیڈنگ کی تازہ صورتحال پر بریفنگ دی گئی، اجلاس میں چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری، سیکرٹری انرجی اور پولیس کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں متعلقہ حکام کی طرف سے بریفنگ میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو بتایا گیا کہ ایک ماہ میں کے پی حکومت کے تعاون سے ایک ارب روپے کی ریکوری کی گئی، صوبے میں پیسکو کی تنصیبات اور عملے کو پولیس کی مکمل سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔ عیدالاضحیٰ کے موقع پر بیشتر علاقوں میں 12 سے 18 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کی گئی،صوبے میں پہلی بار خواتین نے بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے۔ اگر صورتحال میں بہتری نہ آئی تو صوبے میں امن وامان کے سنگین مسائل جنم لینے کا خدشہ ہے۔

اس موقع پر وزیر اعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بجلی سے جڑے مسائل حل کرنے کیلئے صوبائی حکومت مکمل تعاون کررہی ہے، صوبے میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف عوامی رد عمل سخت سے سخت ہوتا جارہا ہے ،اس ناروا لوڈشیڈنگ کی وجہ سے صوبے میں لوگوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔

وزراعلیٰ کا کہنا تھا کہ پہلی دفعہ عید الاضحٰی کے موقع پر بھی صوبے کے بیشتر علاقوں میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی گئی، افسوس کی بات ہے کہ وفاقی حکومت اپنے وعدے پورے نہیں کر رہی ،لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کسی ایک سیاسی جماعت یا صوبائی حکومت کا نہیں بلکہ یہ ایک عوامی مسئلہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کو گھروں میں پینے اور مساجد میں وضو کر نے کے لیے پانی نہیں مل رہا، صوبے میں لائن لاسز کو ختم کرنے کیلئے بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔ صوبے میں 12 گھنٹوں سے زیادہ لوڈشیڈنگ کسی صورت قبول نہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ عوامی ردعمل قابو سے باہر ہو جائے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں