یریوان+ غزہ+ تل ابیب + واشنگٹن+ لندن (مانیٹرنگ ڈیسک/اے پی پی) یوریشیائی ملک آرمینیا نے اسرائیل کی بھرپور مخالفت کو کسی خاطر میں نہ لاتے ہوئے فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرلیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آرمینیا کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ ان کے ملک نے فلسطین کو باضابطہ طور پر ایک ریاست تسلیم کرلیا۔ آرمینیا کی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں حماس کے ساتھ اسرائیل کی فوری جنگ بندی سے متعلق اقوام متحدہ کی قرارداد کی حمایت کرتے ہیں اور فلسطین اسرائیل تنازع کے 2 ریاستی حل کے حق میں ہیں۔صیہونی ریاست کے دفتر خارجہ نے اسرائیل میں آرمینیا کے سفیر کو طلب کر کے فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کے فیصلے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور احتجاج ریکارڈ کروایا۔ دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی کی حکمراں جماعت پی ایل او نے آرمینیا کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ آرمینیا کا یہ اقدام تنازع کے 2 ریاستی حل کی جانب مثبت پیش رفت ہے۔ امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اُس نے بحیرہ احمر میں حوثیوں کی 4 کشتیوں اور 2 ڈرونز طیاروں کو مار گرایا ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب حوثیوں نے بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے پانیوں میں غیر ملکی بحری جہازوں پر حملے کیے اور کچھ کو یرغمال بھی بنایا۔امریکی فوج نے گزشتہ روز یمن میں حوثیوں کے2 عسکری مقامات پر کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز کو بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کارروائیاں حوثیوں کو بحری جہاز پر حملے کا جواب ہیں۔ امریکی حکام نے حوثیوں پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے ملازمین، سفارت کاروں اور این جی اوز کے کارکنوں سمیت تمام قیدیوں کو فی الفور رہا کرے۔ برطانیہ میں سعودی عرب کے سفیر شہزادہ خالد بن بندر بن سلطان نے کہا ہے کہ ان کا ملک فلسطینی عوام کی قیمت پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں لائے گا۔ العربیہ اردو کے مطابق انہوں نے رائل انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز کی کانفرنس میں شرکت کے دوران سعودی عرب کے موقف کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب مسئلہ فلسطین کے حوالے سے ثابت قدم ہے۔ سعودی عرب مسلسل اس بات پر زور دیتا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات اس وقت تک قائم نہیں ہوں گے جب تک اسرائیل1967 ء کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست جس کا دارالحکومت القدس ہو کو تسلیم نہیں کر لیتا اس کے علاوہ غزہ میں جارحیت کا خاتمہ اور یہاں سے تمام اسرائیلی فوجیوں کا انخلا بھی ضروری ہے۔ غزہ کے مکینوں کے خلاف اسرائیلی فوج کی دہشت گردی جاری ہے، حملوں میں مزید 24 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے وسطی غزہ کے علاقے نصیرات اور دیر البلاح میں مہلک ہتھیاروں، ٹینکوں اور ڈرونز کے ذریعے حملے کر کے بے گھر فلسطینیوں کے خیموں کو نشانہ بنایا۔ شہدا کی مجموعی تعداد37 ہزار431 ہو گئی ہے جبکہ85 ہزار 653 افراد زخمی ہوئے ہیں۔