ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

جماعت اسلامی کی قومی تحریکِ مزاحمت کا آغاز: مہنگی بجلی، لوڈشیڈنگ اور عوام دشمن بجٹ کیخلاف آج ملک گیر احتجاج

لاہور:  امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے مہنگی بجلی، طویل لوڈشیڈنگ اور عوام دشمن بجٹ کے خلاف آج (اتوار) کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے قومی تحریک مزاحمت کا آغاز کردیا۔

منصورہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ظالمانہ بجٹ کسی صورت قبول نہیں۔ ن لیگ، پی پی اور ایم کیو ایم کی بجٹ پر نوراکشتی جاری ہے، روٹھنے منانے کی ڈرامے بازیوں کو عوام خوب سمجھتے ہیں۔ جماعت اسلامی کا احتجاج پرامن ہوگا،پنجاب میں دفعہ 144انگریزوں کا عطاکردہ قانون ہے، حق کے لیے آواز کو نہیں دبایا جاسکتا، حکمرانوں نے جو کرنا ہے کرلیں۔

 امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ سخت گرمی میں ملک کے طول و عرض میں جاری طویل لوڈشیڈنگ اور اوپر سے بجلی بلوں کی صورت میں بجلی بموں نے عوام کی زندگی عذاب کردی ہے۔ شہباز شریف عرصہ دراز سے لوڈشیڈنگ خاتمے کے جعلی اعلانات کررہے ہیں۔

انہوں نے وزیرخزانہ کے قومی اداروں کی فروخت سے متعلق بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وزیرموصوف کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ اندھی پرائیویٹائزیشن کا بیان جاری کریں، اس طرح کے شاہی فرمان جاری کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ وزیرخزانہ جن پارٹیوں کی نمائندگی کرتے ہیں وہ بذات خود قومی اداروں کی تباہی کی ذمے دار ہیں، پہلے ذمے داران کو کٹہرے میں لایا جائے۔

نائب امیر لیاقت بلوچ، سیکرٹری جنرل امیرالعظیم اور سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ مایوسی کے بجائے ظالم اشرافیہ سے جان چھڑانے کے لیے جماعت اسلامی کے تحت اضلاع اور تحصیلوں تک کی سطح پر ہونے والے مظاہروں میں بھرپور شرکت یقینی بنائیں۔ آئندہ نسلوں کی حفاظت کے لیے لازم ہوگیا ہے کہ جدوجہد کا آغاز کیا جائے۔ ملک کو فارم 47 کے ذریعے مسلط ہونے والوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔

امیر جماعت نے ساہیوال اسپتال آتش زدگی واقعے پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے ڈاکٹرز اور پروفیسرز کو ہتھکڑیاں لگا کر کھڑا کرنے کے عمل کی پُرزور مذمت کی اور اس رویے کو انتہائی توہین آمیز قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سے قوم سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ واقعہ کی تحقیقات حکومت کا حق ہے، تاہم نمائشی اقدامات اور بغیر ایف آئی آر کے پڑھے لکھے پروفیشنلز کے ساتھ اس طرح کا سلوک فاشسٹ طرز عمل ہے، یہ بادشاہانہ طریقے شاید انہوں نے اپنے بزرگوں سے سیکھے ہیں کہ لوگوں کو خوفزدہ کرو اور حکمرانی جاری رکھو۔ عوام کو دبانے کے حربے مزید کامیاب نہیں ہوں گے۔

حافظ نعیم نے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز کے ایڈہاکزم کے خلاف احتجاج اور ان کے دیگرجائز مطالبات کی حمایت کرتے ہیں۔ ڈاکٹرز سے یہ  اپیل بھی کرتے ہیں کہ ان کے احتجاج سے مریضوں اور ان کے لواحقین کو تکلیف اور دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اسپتالوں میں ری ویمپنگ کے نام پراربوں کے فنڈز میں کرپشن کی شفاف تحقیقات ہوں۔

امیر جماعت کا مزید کہنا تھا کہ آئی پی پیز کے ظالمانہ معاہدوں کے نتیجے میں جو رقم بجلی کے لائن لاسز اور ٹرانسمیشن سسٹم کی بحالی پر خرچ ہونی چاہیے تھی وہ آئی پی پیز کے مالکان کو جارہی ہے، ریاست نے انہیں 2800 ارب ادا کرنے ہیں۔رائٹ ٹو انفارمیشن کے تحت عوام کو حق حاصل ہے کہ معاہدوں کی تفصیلات ان کے علم میں لائی جائیں، ان معاہدوں پر فوری نظرثانی ہو۔انہوں نے کہا کہ سی پیک پر پاک چائنا سیاسی مشاورتی عمل کی حمایت کرتے ہیں،مشاورت میں جماعت اسلامی شریک تھی،پاک چین دوستی دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔

انہوں نے کہا حکومت نے بجٹ میں ٹیکس اہداف 13000 ارب کرکے سارا بوجھ تنخواہ دار طبقے پر لاد دیا، ایف بی آر کا ٹیکس آمدن میں کوئی کردار نہیں، سرکاری و پرائیویٹ ملازمین سے 375 ارب اور بقیہ بجلی و گیس بلوں پر ٹیکسز کی صورت میں عوام سے چھینا گیا، جاگیرداروں نے صرف 4 ارب ٹیکس دیا، یہی طبقات ملک پر مسلط ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف امریکا کا ذیلی ادارہ ہے اور اس کا کام ترقی پذیر ممالک کو کریڈٹ جاری کرکے ان پر غلامانہ تسلط قائم رکھنا ہے، بجٹ آئی ایم ایف نے تیار کیا، تنخواہ دار طبقے پر 35 فیصد ٹیکس لگادیاگیا،بجلی بلوں میں فکس ٹیکس تجاویز کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا 7 7 سالوں سے ملک پر مسلط ظالم اشرافیہ نے عوام کو صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی ضرورتوں سے محروم کیا، ان کی وجہ سے برین ڈرین ہورہا ہے، ناجائز ٹیکسز اور بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی کی وجہ سے پڑھے لکھے لوگوں کے ملک چھوڑنے کے رجحان میں 119 فیصد اضافہ ہوا ہے، حکمرانوں کی پالیسیوں کے نتیجہ میں پونے 3 کروڑ کے قریب بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکمران جان بوجھ کر عوام میں مایوسی پھیلا رہے ہیں تاکہ لوگ بددل ہوجائیں اور یہ اپنی من مانیاں جاری اور اسٹیبلشمنٹ کو خوش رکھیں، ان حکمرانوں کو معلوم ہے کہ ان کے پاس عوامی مینڈیٹ نہیں۔ لوگوں کو حق کے لیے نکلنا ہوگا، جماعت اسلامی صحت، صاف پانی کی فراہمی، بنو قابل پروگرام اور دیگر فلاحی سرگرمیوں کے ذریعے عوام کی خدمت کررہی ہے۔

حافظ نعیم نے کہا کہ قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ جماعت اسلامی ان پارٹیوں کی طرح نہیں جو اپوزیشن میں ہوتے ہوئے ان کے لیے بولیں اور حکومت ملتے ہی خاموش ہوجائیں، ہم ملک گیر تحریک کے پہلے مرحلے کا آغاز کررہے ہیں، آئندہ کا لائحہ عمل اور سرگرمیوں کا اعلان ساتھ ساتھ کرتے رہیں گے۔

صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ دبئی لیکس میں ملوث افراد منی ٹریل دیں، سپریم کورٹ کو خط لکھ دیا۔ سوات واقعہ پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہجوم کو اختیار حاصل نہیں کہ قانون ہاتھ میں لے اگرچہ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ انصاف اور قانون کے ادارے ملک میں کس حد تک متحرک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنرل باجوہ اور وزارت خارجہ کشمیر پالیسی سے متعلق قوم کو وضاحت دیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں