
سانگھڑ/کھپرو (نمائندہ جسارت) جی ڈی اے کے سابق ایم این اے ٹکٹ ہولڈر فنکشنل لیگ کے اہم رہنما حر جماعت کی اہم شخصیت سابقہ تعلقہ ناظم حاجی خدابخش درس پر مبینہ طور اندھا دھند فائرنگ فائرنگ کے نتیجے میں گارڈ عبدالخالق درس اور سابقہ ناظم خدا بخش درس موقع پر جاں بحق ہو گئے۔ حاجی خدابخش درس اپنی زرعی زمین پر جارہے تھے کہ اچانک ہتھیار بندوں نے گھات لگائے اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں وہ موقع ہی پر جاں بحق ہو گئے۔ یاد رہے سابق ناظم خدا بخش درس مشرف دور میں بھی دو بار ناظم رہ چکے تھے جیسے ہی قتل کی اطلاع شہر میں پھیلی، علاقہ مکین سیاسی سماجی شخصیات اور مرید ہزاروں کی تعداد میں تعلقہ سول اسپتال کھپرو پہنچ گئے، شہر میں خوف ہراس کا سماں ہے، لاش پوسٹ ماٹم کے بعد اُن کے آبائی گاؤں روانہ کر دی گئی جہاں ان کی نمازِ جنازہ ان کے آبائی گاؤں عبدالخالق درس متھون قبرستان میں ادا کی گئی، واقعے کے بعد حر جماعت میں شدید غم و غصے کی لہر پھیل گئی، خبر ملتے ہی شہریوں نے سوگ میں شہر بند کر دیا۔ پولیس نے تاحال واقعے پر اپنا موقف نہیں دیا جبکہ پیپلزپارٹی کی مرکزی رہنما شازیہ عطا مری نے خدا بخش درس کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قتل میں ملوث عناصر کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، قانون نافذ کرنے والے ادارے قتل میں ملوث عناصر کو جلد گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دلوائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خدا بخش درس کا قتل سانگھڑ کے امن کو خراب کرنے کی سازش ہے۔ آئی جی سندھ سانگھڑ کے امن وامان کو یقینی بنائیں، مشکل کی اس گھڑی میں خدا بخش درس کے اہلخانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔